زبانوں پر مہارت حاصل کیے بغیر قوموں کی ترقی اور عالمی مسابقت میںوموں کی ترقی، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
پندرہ(15)کروڑ نوجوانوں پر مشتمل آبادی پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج نہیں، بلکہ قومی تقدیر بدلنے کا سنہری موقع ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ملتِ اسلامیہ کے لیے ماڈل بننا ہے تو سب سے پہلے اپنی سوچ کو علم کے ذریعے مسلح اور اپنی زبان کو درست کرنا ہوگا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

کراچی:……..نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک نہایت پُروقار اور فکر انگیز تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے فرمایا کہ آج کی دنیا جس تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے،

اس میں زبانوں کی تعلیم کے بغیر بین الاقوامی روابط (انٹرنیشنل کنیکٹیوٹی) اور جدید دنیا میں ترقی کا حصول ناممکن ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قوموں کو خود کو بدلنے کا ارادہ کرنا ہوگا، کیونکہ جو افراد اور اقوام خود کو بدلنے کا ارادہ نہیں رکھتیں، خدا بھی ان کی حالت نہیں بدلتا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پاکستان کی نوجوان آبادی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں کی تعداد 15 کروڑ کے لگ بھگ ہے، جو کہ ایک چیلنج کے بجائے قومی تقدیر بدلنے کا سنہری موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ قومیں جہاں آبادی کی کمی سے پریشان ہیں، وہیں پاکستان کے یہ جوان ملک و قوم کی قسمت کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر درپیش مسائل کا حل بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وزیرِ تعلیم نے طالبات کی غیر معمولی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پیغام ماؤں اور ساسوں تک پہنچنا چاہیے کہ اگر طالبات کو تعلیم کے بعد معاشرے میں اپنے صحیح پوٹینشل (صلاحیت) کے مطابق جگہ نہ ملی تو ملک ایک سنگین بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔

انہوں نے اس بنیادی ضرورت کی طرف توجہ دلائی کہ ہمیں سب سے پہلے اپنی قومی زبان اردو کو درست طریقے سے بولنا اور پڑھنا سیکھنا چاہیے کیونکہ اردو بولنے والے ہی سب سے خراب اردو بول رہے ہیں۔ انہوں نے چینی، جاپانی، جرمن جیسی زبانوں کی تعلیم کو عصری تقاضا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک ماڈل بننا ہے اور اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے علم نافع کے ذریعے اپنے ذہنوں کو مسلح کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں عمل کرنا ہے

اور وہ عمل اتنی بار کرنا ہے کہ وہ ہماری عادت اور ہماری شناخت بن جائے۔ اس موقع پر ریٹائرڈ میجر جنرل شاہد محمود کیانی، ریکٹر نمل، نے اپنے خطاب میں کہا کہ نمل کوئی منافع بخش ادارہ نہیں بلکہ ہمارا اولین مقصد “تعلیم سب کے لیے” کے مشن کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمل نے کراچی میں کیمپس اس لیے قائم کیا کہ تعلیم ہی بچوں کو غربت کی گہرائیوں سے نکال کر کامیابی کی بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نمل پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے جو 26 زبانوں کی تعلیم فراہم کر رہی ہے،

جس میں اردو زبان کی ترویج اور درستگی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ تقریب میں اراکینِ صوبائی اسمبلی عادل عسکری اور ڈاکٹر عبدالباسط، وزارتِ تعلیم و نمل کے معزز حکام، اساتذہ کرام، اور کثیر تعداد میں جوشیلے طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔