یونیورسٹیز کا جال پرعزم خالد مقبول صدیقی

اٹھارہ کروڑ 35 سال سے کم عمر نوجوانوں کو جدید دنیا کے مطابق تبدیل کر دیا جائے تو پاکستان تبدیل ہو جائے گا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

پاکستان کی ترقی کے لئے نوجوانوں کی صلاحیت سازی پر توجہ دینے اور انکو ہنرمند اور معاشی خودکفیل کرنے کی ضرورت ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

وفاقی وزارت تعلیم شہر میں یونیورسٹیز کا جال بچھانے کے لئے پرعزم ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

نذیر حسین یونیورسٹی اور سٹی گلڈز کے تعاون سے سرٹیفائڈ ٹیکنیکل کورسز کے آغاز کے لئے این ایچ یو میں تقریب کا انعقاد

کراچی، ۔۔۔۔۔۔۔   متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین و وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے نذیر حسین یونیورسٹی اور سٹی گلڈز کے تعاون سے سرٹیفائڈ ٹیکنیکل کورسز کے آغاز کے لئے این ایچ یو میں منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نذیر حسین یونیورسٹی اور طلبہ کے لئے آج فخر کا دن ہے، کراچی کے لئے طلبہ کے بہترین اور روشن مستقبل کا چراغ بڑی آب و تاب سے چمک رہا ہے،

وفاقی وزارت تعلیم شہر میں یونیورسٹیز کا جال بچھانے کے لئے پرعزم ہے، انہوں نے کہا کہ یہ شہر چلتا ہے تو ملک میں خوشحالی آتی ہے، آج کے تیز رفتار دنیا میں وہ نہیں بدلا جس نے خود کو بدلنے کی کوشش نہ کی ہو، اس شہر میں تبدیلی نعرے کی شکل میں نہیں ارادے کی شکل میں آ رہی ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سب کچھ تبدیل کر دے گی، جنہوں نے آج خود کو تبدیل نہیں دیا تو تیس سال بعد ایک ارب افراد غیر متعلق ہو جائیں گے، پاکستان کے مجموعی حالات پر تبصرہ کررے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ہم ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں کی جمہوریت جاگیردارانہ بنیاد پر چل رہی ہے اور اس جاگیردارانہ نظام کو توڑنے کا تعلیم ہی واحد طریقہ ہے، 18 کروڑ 35 سال سے کم عمر نوجوانوں کو تبدیل کر دیا جائے تو پاکستان تبدیل ہو جائے گا،

           

آنے والے دور میں صرف ڈگری سے کام نہیں چلے گا لازمی طور پر ہنر سیکھنا پڑے گا، تعلیم کو کائینیٹک انرجی کی ضرورت ہے، پڑوسی ملک چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین کی سوا ارب کی آبادی کم پڑ رہی ہے، ہنر مند آبادی لائبلٹی نہیں اثاثہ ہوتی ہے،

جاپان کے پاس نوجوانوں کی تعداد کم ہے، ہمیں نوجوانوں کی صلاحیت سازی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور انکو ہنرمند اور معاشی خودکفیل کرنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر چانسلر انجینیر فرحت خان ،قائد حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی علی خورشیدی، رُکن سندھ اسمبلی عادل عسکری، سکندرا خاتون، اعجاز الحق و دیگر اراکین اور مرکزی رہنما کیشور زہراء، ماہرین تعلیم، طلبہ و طالبات کثیر تعداد میں بھی موجود تھے

اپنا تبصرہ لکھیں