ایس آئی سی اور ٹی آئی پاکستان کا شفافیت اور اچھی حکمرانی کے لیے اشتراک
دونوں فریقین کاسندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 کے مزید مؤثر نفاذ کی اہمیت پر زور
کراچی…….. سندھ انفارمیشن کمیشن (ایس آئی سی) اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) پاکستان نے سندھ میں شفافیت اور کھلی حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے باہمی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔
سندہ انفارمیشن کمیشن کے دفتر میں ہوئے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران، دونوں فریقین نے سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 کے مزید مؤثر نفاذ کی اہمیت پر زور دیا جس سے شہریوں کو معلومات تک رسائی کی فراہمی اور ادارہ جاتی شفافیت و جوابدہی کو مضبوط بنایا جاسکے۔ اجلاس میں عوامی آگاہی بڑھانے، سرکاری اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کرنے، اور معلومات کی بروقت اور پیشگی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں سندھ انفارمیشن کمیشن کے کمشنرز محمد سلیم خان اور نور محمد دایو نے شرکت کی، جن کے ہمراہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ذوالفقار شیخ بھی موجود تھے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف علی نے شرکت کی، جبکہ ان کے ہمراہ پراجیکٹ منیجرز محترمہ نسرین اور محترمہ فریحہ بھی موجود تھیں۔
دونوں جانب کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ شفاف حکمرانی عوام کا اعتماد بحال کرنے اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے پیشگی معلومات کی فراہمی کے طریقہ کار کو فروغ دینے، سرکاری افسران کی تربیت کے اقدامات کی حمایت کرنے، اور شہریوں کو معلومات تک رسائی کے حق کے استعمال میں سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس کے اختتام پر باہمی تعاون کے ایک فریم ورک کی تیاری پر اتفاق کیا گیا، جس میں آگاہی مہم، تکنیکی معاونت، اور پالیسی وکالت شامل ہوں گی تاکہ سندھ کے سرکاری اداروں میں شفافیت اور دیانت داری کے کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔
دونوں فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ شفافیت اور اچھی حکمرانی کے فروغ کے لیے آر ٹی آئی قانون میں بہتری کے لیے باقاعدہ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
یہ اشتراک جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے اور اس امر کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا کہ سرکاری ادارے عوام کے سامنے جوابدہ اور ان کی ضروریات کے مطابق فعال رہیں