تعلیم کے ذریعے ہی ہم ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
مقامی یونیورسٹی میں اساتذہ کی تربیت کا مقصد نسلِ نو کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے، وفاقی وزیر تعلیم
ڈھائی کروڑ بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانا قومی مشن ہے، تعلیمی ایمرجنسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان
مقامی یونیورسٹی میں 100 نو قائم شدہ اسکولوں کے اساتذہ کی تربیتی تقریب کے موقع پر وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا خطاب
کراچی ۔۔۔۔۔۔۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مقامی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز (بی ای سی ایس) کے زیرِ اہتمام 100 نو قائم شدہ اسکولوں کے اساتذہ کی تربیت کی تقریبِ اختتام میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کی روشنی کو پاکستان کے طول و عرض میں عام کرنا ہمارا نصب العین ہے اور نذیر حسین یونیورسٹی جیسے تعلیمی ادارے اس علمی انقلاب میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اسلام آباد سے کراچی تک تعلیم کے میدان میں نئی تعمیر ہو رہی ہے اور ہمارا مقصد اس تعلیمی ماڈل کو فروغ دینا ہے جو برازیل جیسے ممالک میں کامیاب رہا، جہاں کچی آبادیوں اور کم وسیلہ طبقے کے بچوں کو بھی عزتِ نفس کے ساتھ معیاری تعلیم فراہم کی جاتی ہے تاکہ ایک مزدور کا بچہ بھی معاشرے کا فعال رکن بن سکے
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور غربت کی وجہ سے ہر پانچواں بچہ 10 سال کی عمر کے بعد تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اس صورتحال کو بدلنے کے لیے ہمیں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنی ہوگی کیونکہ تعلیم اور شعور ہی فلاح کا واحد راستہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے ان خواتین اساتذہ کی ہمت اور جذبے کو خصوصی طور پر سراہا جو انتہائی قلیل وسائل اور ایک مزدور کے برابر تنخواہ پر بھی قوم کے معماروں کی آبیاری کر رہی ہیں اور واضح کیا کہ ہم ان اسکولوں کو ایسی فیکٹری بنائیں گے جہاں سے علم اور دانش کشید کی جائے گی

تقریب کے دوران نذیر حسین یونیورسٹی کا پورا ماحول علمی و تعلیمی جوش و خروش سے بھرپور نظر آیا جہاں اساتذہ نے تربیتی عمل کو انمول قرار دیا، آخر میں وفاقی وزیر نے تربیت مکمل کرنے والے اساتذہ میں شیلڈز، عیدی اور اعزازی تحائف ، بنیادی ضرویات کی چیزیں اسکولوں کو تقسیم کیں جبکہ اس موقع پر نذیر حسین یونیورسٹی کے حکام، ایم کیو ایم پاکستان کے اراکینِ صوبائی اسمبلی اور تعلیمی ماہرین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔