جامعہ کراچی میں شعبہ سوشل ورک کی طالبہ انیقہ سعید کے ساتھ پیش آنے والے حادثے پر جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے، اے پی ایم ایس او
یہ پہلا واقعہ نہیں، متعدد بار پوائنٹس کی غفلت کے باعث ایسے حادثات رونما ہوچکے ہیں، اے پی ایم ایس او
جامعہ کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام کی نااہلی اور ناقص انتظامات پر سنگین سوالیہ نشان ہے، اے پی ایم ایس او
حادثے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داران کے خلاف فوری کاروائی اور ٹرانسپورٹ سسٹم میں اصلاحات کی جائیں، اے پی ایم ایس او کا مطالبہ
کراچی۔۔۔ آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جامعہ کراچی میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ شعبہ سوشل ورک کی طالبہ انیقہ سعید کو جامعہ کے پوائنٹ نے شعبہ ریاضی کے سامنے کچل دیا، جس کے نتیجے میں ایک اور گھر اُجڑ گیا۔ اے پی ایم ایس او نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی متعدد بار پوائنٹس کی بے احتیاطی کے باعث ایسے حادثات رونما ہوچکے ہیں، جو جامعہ کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام کی نااہلی اور ناقص انتظامات پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔

(اے پی ایم ایس او) کا کہنا تھا کہ انتظامیہ خصوصاً ٹرانسپورٹ انچارج قدیر محمد علی کی غفلت، غیر ذمہ داری اور عدم دلچسپی کے باعث یہ سانحہ پیش آیا۔ اے پی ایم ایس او نے اس دردناک حادثے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد کے خلاف فوری انتظامی و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور جامعہ کراچی کے ٹرانسپورٹ سسٹم میں فوری اصلاحات کی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
(اے پی ایم ایس او) نے بیان میں مزید کہا کہ جامعہ کے اندر اسپیڈ لمٹ، سائن بورڈز، اور ٹریفک نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور متاثرہ طالبہ کے اہل خانہ کو جامعہ کی جانب سے مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔ اے پی ایم ایس او نے واضح کیا کہ اگر انتظامیہ نے اس واقعے کو معمول کا حادثہ سمجھ کر دبانے کی کوشش کی تو وہ احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں بلکہ طلبہ کی جانوں کے تحفظ کے لیے جامعہ کے نظام میں فوری تبدیلی کا مطالبہ کرنے کا ہے۔ انیقہ سعید صرف ایک نام نہیں، بلکہ جامعہ کراچی کے ٹرانسپورٹ سسٹم کی نااہلی پر ایک سوالیہ نشان ہے جس کا جواب دینا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے