پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے تعلیم کو مذاق اور کھیل بنا دیا ہے،منعم ظفر خان
سندھ حکومت اور میٹرک بورڈ کی نا اہلی و بد انتظامی کی سزا کراچی کے طلبہ بھگت رہے ہیں،ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے
ایک سال میں 4کنٹرولر امتحانات تبدیل کیے گئے، صوبائی محکمہ تعلیمی بورڈ اور متعلقہ ذمہ داران ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں
کراچی….. امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے میٹرک بورڈ کراچی میں بدترین بحران، شدید بد انتظامی اور متعلقہ ذمہ داران کی نا اہلی و ناقص کارکردگی کے باعث امتحانات ملتوی ہونے اور ہزاروں امیدواروں کو ایڈمٹ کارڈز جاری نہ ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے تعلیم کو مذاق اور کھیل بنا دیا ہے، سندھ حکومت اور میٹرک بورڈ کی نا اہلی و بد انتظامی کی سزا کراچی کے طلبہ بھگت رہے ہیں، ہزاروں طلبہ و طالبات کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے جبکہ تاحال ایڈمٹ کارڈز کے اجراء کا بحران ختم نہ ہونے کے باعث کراچی کے ہزاروں طلبہ وطالبات اور والدین شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار ہیں۔میٹرک بورڈ آفس پر ایڈمٹ کارڈز حاصل کرنے والوں کا ہجوم لگا ہوا ہے،
شہر بھر سے آنے والے امیدوار پریشان حال ہیں اور بورڈ انتظامیہ ان کو ایڈمٹ کارڈزجاری کرنے میں ناکام ہے اور امتحانی مراکز کے قیام کے حوالے سے بے شمار شکایات سامنے آرہی ہیں، انہوں نے کہا کہ میٹرک بورڈ میں صرف ایک سال میں 4کنٹرولر امتحانات تبدیل کیے گئے اور صورتحال یہ ہے کہ صوبائی محکمہ بورڈ اور دیگر متعلقہ ذمہ داران ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں لیکن بد انتظامی اور بحران کو ختم نہیں کیا جا رہا۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے 18سالہ بدترین دور حکمرانی میں تمام اداروں کو تباہ و برباد کر دیا ہے،
تعلیمی بورڈز میں من پسند افراد کی تقرریوں اور سیاسی و انتظامی مداخلت نے تعلیم کا بیڑا غرق کر دیا ہے،کبھی نتائج میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آتی ہیں اور طلبہ و طالبات کو فیل قرار دے دیا جاتا ہے، تحقیقاتی کمیٹیاں بنتی ہیں لیکن ذمہ داران کے خلاف کوئی کارروائی سامنے نہیں آتی بلکہ ان کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے جو کراچی کے طلبہ و طالبات کی تعلیمی نسل کشی کے مترادف ہے