غیر یقینی حالات ،ملک میں بحران

مشرق وسطی کی جنگ اور غیر یقینی حالات نے ملک میں بحران کو جنم دے دیا ہے۔ جسکے اثرات عام آدمی پر مہنگائی کی صورت میں پڑھ رہے ہیں۔

فیلڈ مارشل نے ہمیں مضبوط اور متحد قوم اور بہترین فوج کا اعزاز دلوا دیا اب ہمیں عوامی حکومت کو کردار ادا کرنا ہے

اٹھارویں(ا18) ترمیم کے اثرات نیچے تک منتقل ہونے چاہئیں۔28ویں ترمیم میں بلدیاتی اداروں کو طاقتور بنانا چاہئے۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان کا کراچی، حیدر آباد، میرپورخاص، ٹنڈوہ الہ یار سکھر، بدین،ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو آدم، عمر کوٹ، دادو، میہڑ، خیر پور ناتھن شاہ کے ذمہ داران کے آن لائن اجلاس سے خطاب

کراچی …………. سابق گورنر سندھ و روح رواں ایم پی پی ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ مشرق وسطی کی جنگ اورغیر یقینی حالات نے ملک میں بحران کو جنم دے دیا ہے۔ جسکے اثرات عام آدمی پر مہنگائی کی صورت میں پڑھ رہے ہیں۔ دنیا اس جنگ کے اثرات کا شکار ہے لیکن ہمیں حوصلہ بلند رکھتے ہوئے مضبوط قوم بننا ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب ہوجائیں دعا گو ہیں ورنہ دنیا شدید بحران کا شکار ہوجائے گی۔ انہوں نے یہ بات کراچی، حیدر آباد، میرپورخاص، ٹنڈوہ الہ یار سکھر، بدین،ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو آدم، عمر کوٹ، دادو، میہڑ، خیر پور ناتھن شاہ کے ذمہ داران کے آن لائن اجلاس سے خطاب میں کہی۔انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے گڈ گورننس کریں تو ہم مشکلات سے نکل سکتے ہیں۔ لیکن اگر ذرا سا بھی بوجھ عوام پر ڈالا گیا تو عوام اسے برداشت نہیں کرپائیں گے۔ ہم امن پسند ملک ہیں۔ فیلڈ مارشل نے ہمیں مضبوط اور متحد قوم اور بہترین فوج کا اعزاز دلوا دیا اب ہمیں عوامی حکومت کو کردار ادا کرنا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کے لئے گڈ گورننس کی گئی۔ اسے جاری رہنا چاہئے۔ سندھ کے حوالے سے وفاق، صوبے اور لوکل گورنمنٹ کو ایک پلر بننے کی ضرورت ہےکراچی سے وفاق 70فیصد اور صوبہ 90فیصد ٹیکس لیتا ہے تو خرچ کرنے کے لئے پہلی ترجیح کراچی ہونا چاہئے۔ لیکن سندھ کے شہری اور دیہی علاقے بربادی کی داستا نیں عملی طور پر پیش کر رہے ہیں۔ حیدر آباد اور کراچی کی مئیر شپ پیپلز پارٹی کے لئے اعزاز تھا لیکن وہ اسے سنبھال نہیں سکے۔ نہ یہاں کام نظر آرہا ہے۔ دعوی نظر آتے ہیں۔ تین ماہ گزر گئے۔ 2026ترقی کا سال نہیں بن سکا۔ اگلے سال الیکشن ہے ہم بلدیاتی ایوانوں میں حقیقی نمائندوں کو دیکھنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے جلد مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔ کراچی کرچی کرچی ہے۔ حیدر آباد بارش میں دریا بن جاتا ہے۔ سکھر سے وزیر بلدیات ہیں تو اس شہر کے مسائل کیوں حل نہیں ہورہے؟میرپور خاص میں بھی مئیر پی پی پی کا ہے ترقی ندارد کیوں؟

گورنر سندھ کے منصب پر سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کو یکساں ترقی دلائی اب وفاق اور صوبہ وہی کردار ادا کیوں نہیں کرتے؟ پانی نایاب ہے۔ ٹینکرز مافیا کی چاندی ہے۔ ڈمپرز اور ہیوی ٹریفک شہریوں کو روز کچل رہے ہیں لیکن نمبر پلیٹ کبھی کوئی بہانہ ایکسائز والے کراچی کے عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سیف سٹی کیمراز بھی کمائی کا زریعہ ہیں۔ لیکن جرائم میں کمی نہیں آتی۔ اندرون سندھ وڈیرا راج ہے عام آدمی اذیت کا شکار ہے۔ ام رباب چانڈیو جیت کر بھی ہار گئی۔ نظام کی تبدیلی اور سیاست میں شرافت جب تک نہیں ہوگی۔ ہم لاشے اٹھاتے رہیں گے۔ میری پہچان پاکستان ملک گیر تحریک ہے ہم ریاست کے خادم ہیں سیاست میں بھی وطن پرستی لانے کا مقصد قائد اعظم محمدعلی جناح کے اصولوں کے مطابق پاکستان کو چلانے کا مشن ہے۔ نفرت کی سیاست ختم ہونی چاہئے۔ ایک دوسرے کے جزبات کا احترام ہی ملک کی ترقی کا ایندھن ہے۔ 18وین ترمیم کے اثرات نیچے تک منتقل ہونے چاہئیں۔28ویں ترمیم میں بلدیاتی اداروں کو طاقتور بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں محبتوں کا سفیر ہوں۔ ملک کی تمام اکائیوں کو ایک مالا میں پرونا مشن ہے اور عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ ملک واپس آکر سیاسی لائحہ عمل کا اعلان اور نتیجہ خیز جدوجہد کریں گے

اپنا تبصرہ لکھیں