بیڈ گورننس،عوام دشمن اقدام قرار دے دیاگیا

ڈاکٹر عشرت العباد خان کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو بیڈ گورننس اور عوام دشمن اقدام قرار دے دیا۔
ایک ماہ میں صرف ڈرامہ کیا گیا۔ ساری کسر 150روپے اضافے میں نکال لی گئی۔ کفایت شعاری بھی دکھاوا ہے۔ عوام کو دھوکہ دیا گیا۔ سابق گورنر سندھ

مشرق وسطی کی جنگ بند کرانے کے لئے او آئی سی کا اجلاس اور اقوام متحدہ سمیت عالمی عدالت انصاف کا کردار لازمی ہوچکا ہے۔ اگر فکر نہ کی گئی تو تیسری عالمی جنگ کی طرف معاملات چلے جائیں گے۔ ایران کے ساتھ ظالمانہ رویہ ختم کرانے کے لئے بین الاقومی طاقتیں اپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔

متحدہ عرب امارات اور کویت سمیت متعددمما لک بحرانی اور جنگی کیفیت کا شکار ہیں۔ جنگی جنون صرف اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں ہی ختم کراسکتی ہیں۔ پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کردار میں ان کو بھی شامل ہونا چاہئے

دنیا بدترین معاشی بحران کا بھی شکار ہوگی اور غیر یقینی سے حالات مزید دگرگوں ہوں گے۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان

کراچی…………سابق گورنر سندھ و روح رواں میری پہچان پاکستان (ایم پی پی)ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ حکومت کی بیڈ گورننس اور عوام کو دھوکہ دہی سامنے آگئی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے بیڈ گورننس اور عوام دشمن اقدام ظاہر کردیا۔۔ ایک ماہ میں صرف ڈرامہ کیا گیا۔ ساری کسر 150روپے اضافے میں نکال لی گئی۔ کفایت شعاری بھی دکھاوا ہے۔ عوام کو دھوکہ دیا گیا۔ سبسڈی بھی اعداد و شمار کا کھیل ہے۔ ہر شے پر قیمت بڑھ گئی ہے۔ کرایوں میں عوام کی پہنچ سے دور اضافہ کردیا گیا ہے۔

مہنگائی کے طوفان سے عوام کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ مشرق وسطی کی جنگ کے اثرات ساری دنیا پر پڑے ہیں لیکن پاکستان کو ایران نے جو جہازوں کے معاملے میں ریلیف دیا اسکے ثمرات عوام پر نہیں ڈالے گئے۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ نجی گاڑی رکھنا، موٹر سائیکل تک رکھنا محال ہوگیا ہے۔ بیڈ گورننس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ اصلاحات نا گزیر ہو چکی ہیں۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت اور اسکے اتحادیوں کو ظالمانہ اقدام کا ذمہ دار اور عوام دشمن قرار دیا ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کی غلامی میں عوام کو بھی غلام بنا رہی ہے۔ مشرق وسطی کی جنگ بند کرانے کے لئے او آئی سی کا اجلاس اور اقوام متحدہ سمیت عالمی عدالت انصاف

کا کردار لازمی ہوچکا ہے۔ اگر فکر نہ کی گئی تو تیسری عالمی جنگ کی طرف معاملات چلے جائیں گے۔ ایران کے ساتھ ظالمانہ رویہ ختم کرانے کے لئے بین الاقومی طاقتیں اپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔ متحدہ عرب امارات اور کویت سمیت متعددمما لک بحرانی اور جنگی کیفیت کا شکار ہیں۔ جنگی جنون صرف اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں ہی ختم کراسکتی ہیں۔ پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کردار میں ان کو بھی شامل ہونا چاہئے ورنہ دنیا بدترین معاشی بحران کا بھی شکار ہوگی اور غیر یقینی سے حالات مذید دگرگوں ہوں گے

اپنا تبصرہ لکھیں