۔لانڈھی انتظامیہ ٹاون کی حدود میں سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والوں اور انکی سہولت کاری میں ملوث سرکاری و سیاسی افرادکے خلاف نہ صرف قانونی کاروائی کرے گی بلکہ ایسے افراد کو حوالات تک پہنچانے میں آسرا بھی نہیں کرے گی۔ترجمان نے مزید کہا ہے کہ اس وقت لانڈھی ٹاون کی حدود میں سرکاری عمارتوں پارکوں اور پلے گروانڈ پر قبضے کیلیے کے ایم سی ۔کے بی سی اے اور کے ڈی اے کے افسران کی ملی بھگت سے جعلی کاغذات تیارکرکے قبضہ کرانے کی کوشش کی جارہی ہیں

کراچی۔۔۔۔۔ ترجمان لانڈھی نے اپنے بیان میں کہا ہے لانڈھی انتظامیہ ٹاون کی حدود میں سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والوں اور انکی سہولت کاری میں ملوث سرکاری و سیاسی افرادکے خلاف نہ صرف قانونی کاروائی کرے گی بلکہ ایسے افراد کو حوالات تک پہنچانے میں آسرا بھی نہیں کرے گی۔ترجمان نے مزید کہا ہے کہ اس وقت لانڈھی ٹاون کی حدود میں سرکاری عمارتوں پارکوں اور پلے گروانڈ پر قبضے کیلیے کے ایم سی ۔کے بی سی اے اور کے ڈی اے کے افسران کی ملی بھگت سے جعلی کاغذات تیارکرکے قبضہ کرانے کی کوشش کی جارہی ہیں

گذشتہ دنوں لانڈھی نمبر 1 سرکاری اراضی پر واقع سابق صادق میرج ہال (غیرقانونی قبضہ شدہ ) جو کہ برسوں پہلے سپریم کورٹ کے حکم پر مسمار کردیا گیا تھا اسکے کے ایم سی کے محکمہ کچی آبادی نے جعلی کاغذات بنا کر لینڈ مافیا کودیدئیے۔جب لانڈھی ٹاون کے چئیرمین نے ان قبضہ گیروں سے جعلی ملکیت کے کاغذات طلب کئے تو مذکورہ پلاٹ کے دعویدار ادھورے کاغذات کے لے کر آئے اور ٹاون انتظامیہ پر دبائو ڈالنے دیتے رہے کہ ان ادھورے کاغذات پر کروڑوں کی سرکاری اراضی کو ان لیڈ مافیا کے کارندوں کی ملکیت تسلیم کیا جائے
۔مذکورہ پلاٹ جس پر لینڈ مافیا کے کارندے نے اپنی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے ۔وہ انتہائی جعلی طریقے سے بنائے ہوئے کاغذات کی فائل ہے۔کیونکہ سرکاری قوانین کے مطابق کے ایم سی ہو یا کوئی بھی حکومتی ادارہ جب بھی کسی سرکاری پلاٹ کو یا سرکاری جگہ کو فروخت کرتا ہے تو اسکا اشتہار باقاعدہ اخبارات میں شائع کرتاہے
۔صادق میرج ہال کی ملکیت کے لیے مہیا کردہ کاغذات میں نہ نیلامی کا کوئی اشتہار ہے اور نہ سرکاری چالان کی جمع شدہ رسید۔جو واضح ثبوت ہے ان کے جعلی کاغذات ہونے کا۔لانڈھی ٹاون انتظامیہ سختی سے متنبہ کرتی وہ قبضہ مافیا اور انکے سہولتکاروں کوکے لانڈھی ٹاون کی ایک انچ زمین بھی کسی کو ہڑپ کرنے نہیں دیں گے اورہر قسم کی قانونی کاروائی کرے گی