کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سرپرستی پورا شہر تباہ سندھ حکومت تماشہ ،سیف الدین ایڈووکیٹ

کچی آبادیوں کی جدید تقاضوں کے مطابق پلاننگ کے بجائے منظم سازش کے تحت علاقوں کو کچی آبادی میں تبدیل کیا جا رہا ہے
ترامیم با اثر افراد کو فائدہ پہنچانے اور شہر میں غیر قانونی تعمیرات اور زمین کے ناجائز استعمال کو تحفظ دینے کے لئے کی گئی ہیں
بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی سرپرستی میں پورا شہر تباہ ہو رہا ہے اور سندھ حکومت تماشہ دیکھ رہی ہے
ڈی جی ایس بی سی اے کو شہر کے مفاد کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال پر بر طرف کر دیا جائے۔سٹی کونسل میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین کا مطالبہ

کراچی۔۔۔۔۔کراچی سٹی کونسل KMC میں اپوزیشن لیڈر اور نائب امیر جماعت اسلامی، کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کراچی بلڈنگ اینڈ ٹائون پلانگ ریگولیشن 2002 میں پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے ترامیم کے ذریعے شہر کے بنیادی ڈھانچے پر تباہ کن حملہ کیا ہے۔ یہ ترا میم شہر کو ایک بدترین شہر میں تبدیل کردیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت آج تک کراچی شہر میں کوئی بہتری نہ لا سکی۔ شہر کی پچاس فیصد سے زیادہ آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے جہاں کوئی نظام درست کام نہیں کر رہا لیکن ان آبادیوں کو بہترکرنے اور جدید تقاضوں کے مطابق ان کی پلاننگ اور شہری سہولیات فراہم کرنے کے بجائے کراچی باقاعدہ پلاننگ کے تحت آباد علاقوں کو بھی کچی آبادی میں تبدیل کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 13 مارچ 2025 ء کے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹائون پلانگ ریگولیشن 2002 ء میں کچھ ترامیم جناب اسحاق کھوڑو نے بحیثیت ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی منظور کی ہیں

جن میں ریگولیشن نمبر 27 میں ترمیم کی رو سے صحت تعلیم اور ویلفیر کے لئے زیر استعمال اراضی کو رفاعی (Amenity) کی تعریف سے نکال دیا گیا ہے۔دوسری ترمیم ریگولیشن نمبر 232 میں کی گئی ہے اس کے ذریعے Residential cum Commercial کی ایک نئی کیٹیگری متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت اراضی مختلف تجارتی مقاصد بشمول تجارت مثلا دکان، شاپنگ سینٹر اور مارکیٹ وغیرہ کے لئے استعمال کی جاسکے گی۔ ریگولیشن نمبر 422-18 اور ریگولیشن نمبر 1921 میں ترمیم کے ذریعے وہ تمام رہائشی پلاٹ جن کا رقبہ 400 گز سے زیادہ ہو اور وہ 80 فٹ یا اس سے زیادہ بڑی شاہراہ پر واقع ہوں انہیں تعلیم صحت اور تفریحی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکے گا۔ ریگولیشن نمبر 19.2.2.13 میں ترمیم کے ذریعے تفریحی مقاصد کی تشریح کی گئی ہے

اور اس میں فلاحی تقریبات اور سماجی بہبود کے علاوہ کھانے پینے کی سہولیات مثلا کیفے، فوڈ کو رٹس اور اس ہی طرح کے دیگر مقاصد شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ترامیم بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے جرائم کو چھپانے اور با اثر افراد کو فائدہ پہنچانے کے لئے کی گئی ہیں۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران طویل عرصہ سے کراچی میں نا جائز تعمیرات اور رہائشی گھروں کے غیر قانونی استعمال کی سر پرستی کر رہے ہیں اب ان ترامیم کے ذریعے یہ تمام عمل قانون کے دائرہ میں آجائے گا لیکن شہر برباد ہو جائے گا۔ رہائشی گھروں میں جگہ جگہ اسکول، اسپتال اور تفریحی ادارے کھل جائیں گے لوگوں کا سکون درہم برہم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس حرکت سے حکومت نے مروجہ قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی کھلی خلاف ورزی کی ہے اور غیر قانونی کاموں میں ملوث افراد کی حو صلہ ا فزائی کی ہے۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ ان ترامیم کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ڈی جی ایس بی سی اے کو شہر کے مفاد کے خلاف اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے پر بر طرف کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ دنیا کے پانچویں بڑے شہر کے لئے اتنی بڑی تبدیلیاں تجویز کر دی گئیں لیکن شہر کے نما ئندے وسٹی کونسل کو اور نہ ہی سندھ اسمبلی کو اعتماد میں لیا گیا بلکہ اختیارات کا نا جائز فائدہ اٹھا کر ریگولیشن میں ترامیم کی آڑ میں یہ کام کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سٹی کونسل کا فوری اجلاس بلا کر اس معاملے کا نوٹس لیا جائے۔ جماعت اسلامی شہر کی بربادی کے اس پروگرام کو ہر صورت میں ختم کرنے کے لئے جد و جہد کرے گی اور اس مقصد کے لئے عدالت جانا پڑے گا تو وہاں بھی جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بحال کی جائے

اپنا تبصرہ لکھیں