بانی چیئرمین عظیم احمد طارق برسی

متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا تحریک کے شہید بانی چیئرمین عظیم احمد طارق کی 33 ویں برسی پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش

عظیم احمد طارق کی فکر اور قربانی نے تحریک کے نظریاتی وجود کو جلا بخشی، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

شہید بانی چیئرمین نے متوسط اور غریب طبقے کے نوجوانوں کو سیاسی شعور دیا اور انہیں ایوانوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا، چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ

عظیم احمد طارق شہید کا نام اور کام ہمیشہ تاریخِ پاکستان اور بالخصوص مہاجر سیاست کے ماتھے کا جھومر رہے گا، چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

کراچی……… متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے تحریک کے بانی چیئرمین عظیم احمد طارق کی 33 ویں برسی پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عظیم احمد طارق کی سیاست کا محور اصول پسندی فکری پختگی اور مظلوموں کی بے لوث خدمت تھا ان کی قربانی نے ثابت کر دیا کہ قیادت منصب کا نہیں بلکہ جان کی بازی لگا کر نظریے کی حفاظت کرنے کا نام ہے، مرکز بہادر آباد سے جاری کردہ اپنے خصوصی بیان میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ عظیم احمد طارق شہید نے اس وقت حق و صداقت کا پرچم بلند کیا جب مصلحتوں کا بازار گرم تھا انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں اور ہولناک حالات کا سامنا کیا مگر ان کے قدموں میں لغزش نہیں آئی،

آج اگر ایم کیو ایم ایک توانا سیاسی حقیقت کے طور پر موجود ہے تو اس کی بنیادوں میں عظیم احمد طارق جیسے مخلص رہنماؤں کا لہو شامل ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ شہید چیئرمین نے متوسط اور غریب طبقے کے نوجوانوں کو سیاسی شعور دیا اور انہیں ایوانوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا، انہوں نے مزید کہا کہ شہیدِ وفا کا لقب عظیم احمد طارق کی شخصیت پر پوری طرح صادق آتا ہے کیونکہ انہوں نے تحریک کے کڑے وقت میں پیٹھ دکھانے کے بجائے سینے پر زخم کھانا اعزاز سمجھا،

چیئرمین ایم کیو ایم نے کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شہید کی برسی محض ایک دن نہیں بلکہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور شہداء کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عہد کا دن ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ تاریخ ان لیڈران کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے جو اپنے ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر قربان کر دیتے ہیں، عظیم احمد طارق شہید کا نام اور کام بھی ہمیشہ تاریخِ پاکستان اور بالخصوص مہاجر سیاست کے ماتھے کا جھومر رہے گا، انہوں نے شہید کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کے لئے صبرِ جمیل اُس پر اجر عظیم کی دعاء بھی کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں