غیر انسانی لوڈ شیڈنگ مرکزی کمیٹی مذمت

کراچی میں 12 سے 14 گھنٹے کی غیر انسانی لوڈ شیڈنگ عوام کے ساتھ ظلم کی انتہا ہے، مرکزی کمیٹی ایم کیو ایم پاکستان

شہر میں جاری میٹرک امتحانات میں طلبہ کا شدید گرمی اور حبس میں پیپر دینا حکمرانوں اور کے الیکٹرک کی بے حسی کا ثبوت ہے، مرکزی کمیٹی

کے الیکٹرک نے شہرِ قائد کو اندھیروں میں دھکیل کر معاشی اور تعلیمی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے، مرکزی کمیٹی

حبس اور شدید گرمی میں عوام بلبلا اٹھے ہیں، طویل ترین لوڈ شیڈنگ سے بیماروں اور بزرگوں کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے، مرکزی کمیٹی

وفاقی و صوبائی حکومتیں کے الیکٹرک کے ظلم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، کراچی کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے، مرکزی کمیٹی

کے الیکٹرک کی من مانیاں فی الفور بند نہ کی گئیں اور لوڈ شیڈنگ میں کمی نہ آئی تو ایم کیو ایم احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی، مرکزی کمیٹی

کراچی ۔۔۔……….. متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی مرکزی کمیٹی نے کراچی میں جاری 12 سے 14 گھنٹے کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے شہرِ قائد کے عوام کے خلاف معاشی اور تعلیمی بد انتظامی قرار دیا ہے، اپنے ایک مشترکہ بیان میں مرکزی کمیٹی نے کہا کہ کراچی میں میٹرک کے امتحانات جاری ہیں لیکن کے الیکٹرک کی بے حسی اور سنگدلی کی وجہ سے نو نہالانِ قوم شدید گرمی، حبس اور پسینے میں شرابور ہو کر امتحانی پرچے دینے پر مجبور ہیں

جس سے ان کی کارکردگی اور تعلیمی مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہوشربا بجلی کے بل اور بھاری ٹیکسز وصول کیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف بدترین لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے، گھروں میں پانی کی قلت پیدا ہو چکی ہے جبکہ اسپتالوں میں زیرِ علاج مریضوں اور گھروں میں موجود بزرگوں اور بچوں کا حال بے حال ہے،

مرکزی کمیٹی نے مزید کہا کہ حکومتِ وقت اور متعلقہ ادارے کے الیکٹرک کی من مانیوں کو لگام دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کو کے الیکٹرک کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، اس حبس زدہ موسم میں اتنی طویل لوڈ شیڈنگ کسی بھی طور برداشت کے قابل نہیں ہے، ایم کیو ایم پاکستان نے وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیرِ توانائی سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں،

کے الیکٹرک کے لائسنس اور کارکردگی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور امتحانات کے دوران کم از کم لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے ورنہ عوام کا پیمانہِ صبر لبریز ہو چکا ہے اور ایم کیو ایم پاکستان مظلوم شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکل کر بھرپور احتجاج ریکارڈ کروانے میں دیر نہیں کرے گی

اپنا تبصرہ لکھیں