بلدیہ کراچی اور ٹاؤنز میں کرپشن، کے ڈی اے، ایم ڈی اے، ایل ڈی اے، واٹر کارپوریشن، ایس بی سی اے میں زمینوں پر قبضوں اور کراچی کو تباہ کرنے والے افسران اور نمائندوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔
گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری اور مئیر سمیت دیگر کے خلاف کاروائی کا مطالبہ۔ حکومت سندھ کا اعتراف بد انتظامی اچھی بات ہے لیکن فائر بریگیڈ اور ریسکیو غیر ذمہ داران اب بھی کاروائی سے محفوظ ہیں۔ بلدیہ کراچی کرپشن کا گڑھ ہے۔
فوری او پی ایس افسران اور نیب زدہ و کرپٹ افسران فارغ کئے جائیں۔جنکی زمینیں سسٹم افسران نے چھینی ہیں ماروائے قانون انہیں تنگ کرکے انہیں بے گھر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اینٹی کرپشن اورنیب ایکشن لے اور کوئی سودے بازی نہ کی جائے۔
حکومت سندھ کا اعتراف بد انتظامی اچھی بات ہے لیکن فائر بریگیڈ اور ریسکیو غیر ذمہ داران اب بھی کاروائی سے محفوظ ہیں۔ بلدیہ کراچی کرپشن کا گڑھ ہے۔ فوری او پی ایس افسران اور نیب زدہ و کرپٹ افسران فارغ کئے جائیں
سیف یارخان اور دیگر کا مختلف ایکشن کمیٹیوں اور آفیسرز ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب
کراچی…….. ایم پی پی کی مرکزی کمیٹی کے انچارج نہال احمد صدیقی کی ہدایت پر انچارج محنت کش ونگ و مرکزی رہنما سیف یار خان نے محنت کش یونیز اور آفیسرز ایسوسی ایشن کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیہ کراچی اور ٹاؤنز میں کرپشن، کے ڈی اے، ایم ڈی اے، ایل ڈی اے، واٹر کارپوریشن، ایس بی سی اے میں زمینوں پر قبضوں اور کراچی کو تباہ کرنے والے افسران اور نمائندوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری اور مئیر سمیت دیگر کے خلاف کاروائی کا مطالبہ۔ حکومت سندھ کا اعتراف بد انتظامی اچھی بات ہے لیکن فائر بریگیڈ اور ریسکیو غیر ذمہ داران اب بھی کاروائی سے محفوظ ہیں۔
بلدیہ کراچی کرپشن کا گڑھ ہے۔ فوری او پی ایس افسران اور نیب زدہ و کرپٹ افسران فارغ کئے جائیں۔ سیف یار خان نے کراچی آ فیسرز ایکشن کمیٹی، بلدیہ کراچی ایکشن کمیٹی، مہاجر ورکرز یونین، متحدہ آفیسرز ایکشن کمیٹی کے افراد نے ملاقات کی اور تمام تر تفصیلات سے آگاہ کیا گل پلازہ حادثے پر رپورٹ پیش کی۔ سیف یار خان نے کہا کہ ہمیں اگر انصاف کے لئے عدالتوں میں جانا پڑا تو جائیں گے۔ محنت کش اور افسران خود کو تنہا نہ سمجھیں۔کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے بھی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔ نیب انکوائری اور اینٹی کرپشن انکوائریز میں بھی تعاون کریں گے۔ افضل زیدی محنت کشوں کے لئے ناسور تھا اسکی کرپٹ ٹیم کوبھی فارغ کی جائے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کے ساتھ ہیں۔

گل پلازہ کے اصل ذمہ داران آزاد ہیں۔ حق اور انصاف تب ہوگا جب مئیر کراچی، چیف فائر افسر، ریسکیو اداروں سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم جو رشوت لے کر ان ٹرینڈ افراد کو بھرتی اور ترقی کیڈر بدل کر پانچ پانچ اسٹیشن ایک ہی فرد کو جو ڈرائیور ہے اور چیف فائر افسر اپنے سالے کو کئی کئی چارج دے کر گڑ بڑ گٹالے کر رہا ہے ان سب کو بھی معطل کیا جائے۔ او پی ایس افسران ہٹائے جائیں۔ ریٹائرڈ افسران اور ملازمین کے واجبات اور پنشن فوری ادا کی جائے۔ نعیم جمال کی معطلی ختم اور سیدذولالفقار شاہ کی ایف آئی آر واپس لی جائے۔ مزدوروں کے ساتھ کوئی ظلم برداشت نہیں کریں گے۔ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے مطالبات اور گڑبڑ گٹالوں پر انکے ساتھ ہیں اور انکو انصاف کے لئے تعاون کیا جائے گا۔
جنکی زمینیں سسٹم افسران نے چھینی ہیں ماروائے قانون انہیں تنگ کرکے انہیں بے گھر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اینٹی کرپشن اورنیب ایکشن لے اور کوئی سودے بازی نہ کی جائے۔ سیف یار خان کے ہمراہ لیبر ونگ مرکزی کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے