پاکستان اولیاء کرام کا فیضان اور علما و مشائخ کی عملی جدوجہد کا نتیجہ ہے ۔ بزم فیضان وارثیہ
خطیب ِ پاکستان نے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں نظام مصطفی ﷺ اور
استحکام پاکستان کے لیے عملی جدو جہد جاری رکھی
کراچی………...بزمِ فیضانِ وارثیہ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاکستان کا قیام اولیاء کرام کا فیضان اور علما و مشائخ کی عملی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ وہ گزشتہ روز خطیب ِ اعظم حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے 43 ویں سالانہ عرس کی تقریبات میں شرکت کے سلسلے میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں علماء و مشائخ نے اپنے اپنے مدارس اور خانقاہوں سے نکل کر تحریک ِ پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ان ہی علماو مشائخ میں خطیب ِ اعظم حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کا بڑا کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطیب ِ اعظم نے اپنی بصیرت سے قیام پاکستان کے بعد عملی سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیا اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں نظام مصطفی ﷺ اور استحکام پاکستان کے لیے عملی جدو جہد جاری رکھی۔
اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ عرس کی دو روزہ تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے گا اور عرس کے پہلے روز خطیب ِ اعظم کے مزار شریف پر حاضری دی جائے گی اور گل پاشی کی جائے گی۔ مقررین نے علماء اہلِ سنّت سے مطالبہ کیا کہ وہ جمعہ 09 جنوری 2026ء کو اپنی اپنی مساجد اور خانقاہوں میں خطیب ِ اعظم حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کی دینی اور ملی خدمات پہ روشنی ڈالیں اور خوب ایصال ثواب کا اہتمام فرمائیں۔ منعقدہ اجلاس میں حافظ سید زین العابدین قادری، حافظ سید محمد حمزہ قادری، سید محمد رامش، سید محمد عباس، سید میثم علی، سید محمد مجتبی اور دیگر اراکین نے شرکت کی۔
مزید ان رہنماؤں نے سالانہ یادگاری کتابی سلسلہ الخطیب شائع کرنے پر خطیبِ ملت حضرت علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی اور مولانااوکاڑوی اکادمی العالمی کے خادمین و وابستگان کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی۔ مزید ان رہنماؤں نے گورنر سندھ، وزیر اعلی سندھ اور میئر کراچی سے اپیل کی ہے کہ کراچی شہر کے زیر تعمیر کسی بھی انڈر پاس، فلائی اوور یا کسی بھی مین شاہراہ کا نام بانی جماعتِ اہلِ سنّت خطیب ِ اعظم حضرت علامہ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نام سے موسوم کی جائے۔ اجلاس میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ خطیب ِ اعظم مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کی دینی، ملی و سیاسی خدمات کے اعتراف میں حکومت کی جانب سے یادگاری ٹکٹ جاری کیا جائے۔ اجلاس میں میڈیا کے نمائندوں اور اداروں سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ مولانا اوکاڑوی کے عرس کی تقریبات کی براہ راست کوریج نشر کی جائے نیز اخبارات و رسائل میں بھی اس موقع پر خصوصی ایڈیشن کا اجراء کیا جائے۔اجلاس کے آخر میں فلسطین و کشمیر کے مسلمانوں اور ملک کے استحکام اور سالمیت کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی