کراچی کی ادبی روایت ایم کیو ایم پاکستان کی سرپرستی کے بغیر نامکمل ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ایم کیو ایم پاکستان نے سیاست کو علم و تہذیب سے ہم آہنگ کر کے معاشرے میں فکری شعور کی بیداری کا فریضہ سرانجام دیا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
شہرِ قائد کی معاشی و ثقافتی خوشحالی میں ہی قوم کا تابناک مستقبل مضمر ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
اردو مرکز کے زیرِ اہتمام بے مثال مشاعرہ،ایم کیو ایم پاکستان کی مرکزی ذمہ دارن، اراکینِ پارلیمان اور ادبی شخصیات کی بھرپور شرکت

کراچی۔۔۔……. متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی سرپرستی میں اردو مرکز کے زیر اہتمام مرکز اسلامی، شاہراہ پاکستان میں ایک پُر وقار طرحی مشاعرہ منعقد ہوا، جس کا عنوان ‘آگہی میں اک خلا موجود ہے’ تھا۔ اس ادبی مجلس میں ملک کے طول و عرض سے ممتاز شعراء، ادباء، دانشوروں اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنماؤں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ محفل کی صدارت معروف بزرگ محقق و ادیب، پروفیسر شاداب احسانی نے فرمائی جبکہ مہمان خصوصی حیدر عباس رضوی تھے،

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی بھی جلوہ افروز ہوئے اور شعر و ادب کی سرپرستی کا عملی مظاہرہ کیا۔ مشاعرے کے مرکزی میزبان ایم پی اے عامر صدیقی تھے، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے دیگر مرکزی رہنماؤں میں ارشد حسن، شکیل احمد ، ارشاد ظفیر، شریف خان، زاہد منصوری، کامران فاروقی، کشور زہرا حق پرست اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور تنظیمی شعبہ جات کے ذمہ داران بھی سامعین میں موجود تھے۔

مشاعرے میں معروف شعرائے کرام بشمول پروفیسر شاہد صدیقی، راشد نور، ڈاکٹر اوج کمال، اور حیدر رضوی نے اپنا پُر اثر کلام پیش کر کے حاضرین پر سحر طاری کر دیا اور بھرپور داد وصول کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی کی ادبی و ثقافتی روایت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی فعال شرکت اور سرپرستی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ ایم کیو ایم وہ واحد سیاسی قوت ہے جس نے ہمیشہ سیاست کو علم، شعور اور تہذیب سے ہم آہنگ کر کے معاشرے میں فکری بیداری کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شہرِ قائد کی معاشی و ثقافتی خوشحالی میں ہی پوری قوم کا تابناک مستقبل مضمر ہے، اور ہمیں اپنی نئی نسل کو دوبارہ مطالعہ اور تحقیق کی جانب راغب کرنا ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر چیئرمین ایم کیو ایم اور دیگر سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں شعراء اور منتظمین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز اور گلدستے پیش کیے گئے، جس سے یہ محفل کراچی کی ادبی و ثقافتی زندگی کے احیاء کا ایک روشن باب ثابت ہوئی

۔