میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) نے ملک بھر میں ڈاکٹر عشرت العباد خان روح رواں ایم پی پی کا ویژن پہنچانے کا کام تیز کردیا۔ کراچی میں مختلف ٹاؤنزمیں مرکزی رہنماؤں کے دورے جاری رہے یوسیز کی میٹنگ۔اسلام آباد، مانسہرہ، راولپنڈی، کے پی کے اور پنجاب کے علاوہ گلگت بلتستان میں بھی میری پہچان پاکستان کا پیغام پہنچایا گیا۔ جبکہ لیبر ونگ، لائرز فورم بھی ملک بھر میں متحرک
حکومت گڈ گورننس میں ابتک ناکام ہے سیاست داں بھی احتجاج اور انتشار کی سیاست کر رہے ہیں۔ ملک کا عظیم اور بہتر چہرہ جو فیلڈ مارشل اور سفارتی مشن نے بنایا اسکو برقرار رکھنے کے لئے قوم کو انتشار کے ہر عمل کی مخالفت اور ملک کودوام بخشنے کی ہر سوچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، ڈاکٹر عشرت العباد خان کا پیغام
کراچی ………. میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) نے ملک بھر میں ڈاکٹر عشرت العباد خان روح رواں ایم پی پی کا ویژن پہنچانے کا کام تیز کردیا۔ کراچی میں مختلف ٹاؤنزمیں مرکزی رہنماؤں کے دورے جاری رہے یوسیز کی میٹنگ کی گئی۔ نئے شامل ہونے والے ساتھیوں کو خوش آمدید کہا گیا۔ جبکہ اسلام آباد، مانسہرہ، راولپنڈی، کے پی کے اور پنجاب، کوئٹہ اور بلوچستان کے مختلف شہروں کے علاوہ گلگت بلتستان میں بھی میری پہچان پاکستان کا پیغام پہنچایا گیا۔
جبکہ لیبر ونگ، لائرز فورم بھی ملک بھر میں متحرک ہوگئی ہے۔ ڈاکٹرز فورم اور شعبہ خواتین کے بھی ہر ٹاؤن میں اجلاس منعقد ہورہے ہیں۔ اس موقع پر رہنماؤں نے ڈاکٹر عشرت العباد کے بیانیہ ریاست پہلے سیاست بعد میں، قومی سوچ پاکستان کو عظیم مملکت بنانے اور نوجوانوں میں نئی روح پھونک کر ملک کے لئے بہترین صلاحیتوں کے استعمال کے حوالے سے ورکنگ سے آگاہ کیا۔ پاکستان میں بھارتی پراکسی وار اور ملک کی حفاظت کے لئے ہر اول دستہ بننے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو گڈ گورننس میں ابتک ناکام ہے سیاست داں بھی احتجاج اور انتشار کی سیاست کر رہے ہیں۔ ملک کا عظیم اور بہتر چہرہ جو فیلڈ مارشل اور اسفارتی مشن نے بنایا اسکو برقرار رکھنے کے لئے قوم کو انتشار کے ہر عمل کی مخالفت اور ملک کودوام بخشنے کی ہر سوچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ اگست آزادی کا مہنیہ ہے اس میں قومی یکجہتی کا ہر قدم پر مظاہرہ ہونا چاہئے۔ جمہوریت کا یہ مطلب نہیں کہ قومی دنوں کے موقع پر بھی سیاست کی جائے ہم عظیم فوج اور عظیم قوم ہیں ہمیں ملک کی بہترین قوم بنکر دہشت گردی اور ملک دشمن سوچ کو شکست دینی ہے جبکہ ایم پی پی میں مختلف مکاتب فکر کے افراد کی شمولیتوں کا سلسلہ بھی تیزی سے جاری ہے