کراچی کی تباہی کو علاقائی یا یک لسانی مسئلہ سمجھتے ہوئے اِس سے روگردانی نہیں کی جائے یہ قومی مسئلہ ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی کی معاشی اقتصادی سماجی معاشرتی تعلیمی نسل کشی کی جارہی ہے اس پر ملک کے دوسرے حصوں سے بھی آواز بلند ہونی چاہیئے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ایم کیو ایم کے دورِ نظامت میں ہوئی ترقی کے ثمرات سے آج تک صوبہ اور ملک مستفید ہو رہا ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ایم کیو ایم وطنِ عزیز کو شراکتی شمولیتی حقیقی جمہوریت سے روشناس کرنے کا نسخہ کیمیا ایوان میں پیش کرچکی ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
سڑکیں ہمارا آخری حل ہیں آپ ہمیں اس جانب دھکیل رہے ہیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ملک میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی صرف ایم کیو ایم کے آئینی مسودہ کے ذریعے ممکن ہے، سید مصطفی کمال
پاکستان کو اگر آگے لیکر جانا ہے تو شراکتی شمولیتی حقیقی جمہوریت کا نفاذ کرنا ہوگا، ڈاکٹر فاروق ستار
متحدہ قومی موومنٹ کے چئیرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا سینئر رہنمائوں سید مصطفی کمال، ڈاکٹر فاروق ستار و دیگر کے ہمراہ اسلام آباد نیشنل پریس کلب پر ذرائع ابلاغ نمائندگان سے خطاب

کراچی(نمائندہ خصوصی)کراچی اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا تو شہر آگ و خون کے حوالے ہو جائے گا سنہ 85 میں معصوم طالبہ کی ہلاکت نے کراچی کا سیاسی منظر نامہ تبدیل کر دیا تھا، اِن خیالات کا اظہار متحدہ قومی موومنٹ کے چئیرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سینئر رہنمائوں سید مصطفی کمال ڈاکٹر فاروق ستار کے ہمراہ اسلام آباد نیشنل پریس کلب پر ذرائع ابلاغ نمائندگان سے کیا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے وفاق اور صوبے کی جانب سے مسلسل نظرانداز ہونے کے باوجود شہری سندھ بلخصوص کراچی کو کسی بڑے احتجاج اور مایوسی سے بچانے کیلئے اپنے حصے سے زیادہ کی قربانی دی ہے تمام تر زیادتیوں عدالتوں سے اِنصاف نہ ملنے کے تسلسل کی قیمت اپنے سیاسی سرمائے سے ادا کی، پہلے کراچی میں منی بسیں سڑکوں پر لوگوں کو کچلا کرتی تھیں اب اسمگل شدہ غیر قانونی ٹرک اور ڈمپرز عوام کو روند رہے ہیں جن کے مالکان اور ڈرائیورز غیر مقامی ہیں کراچی کے امن کا رونا رونے والوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ شہر میں بدامنی کی اصل وجہ چور اور سپاہی کا غیر مقامی ہونا ہے جس طرح کراچی کی معاشی اقتصادی سماجی معاشرتی تعلیمی نسل کشی کی جارہی ہے

اس پر ملک کے دوسرے حصوں سے بھی آواز بلند ہونی چاہیئے اِس کو علاقائی یا یک لسانی مسئلہ سمجھتے ہوئے اِس سے روگردانی نہیں کی جائے یہ قومی مسئلہ ہے شہری سندھ کی سیاسی اسپیس کو پچھلے پچاس برسوں میں کم کیا جاتا رہا مگر گذشتہ سولہ سالوں میں مکمل لوٹ لیا گیا مردم شماری میں آبادی کو لاپتہ کرنے سمیت ووٹنگ لسٹوں سے ناموں کو غائب کرنا حلقہ بندیوں میں لسانی بنیادوں پر رد و بدل کیا جانا اس کے بعد مختلف حربوں کا استعمال کرکے شہری سندھ کی نمائندگی کو پچیس فیصد سے بھی کم کردیا گیا، پورے ملک کو چھوڑ کر لسانی بنیادوں پر کوٹہ سسٹم صرف سندھ کا مقدر بنا کیوں کہ ہجرت کرنے والے یہاں بستے ہیں کوٹہ سسٹم شہری علاقوں کے لئے ایک گڑھا کھودا گیا تھا جو اب خندق کی حیثیت رکھتا ہے آج سندھ میں میرٹ کا مطلب کاغذ پر لکھے جعلی نمبرز ہیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں آج جتنی بھی خوش حالی ہے وہ کراچی کی مرہونِ منت ہے ایم کیو ایم کے دورِ نظامت میں ہوئی ترقی کے ثمرات سے آج تک صوبہ اور ملک مستفید ہو رہا ہے،
انہوں نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے پورے شہر کو بے ہنگم دیہات میں تبدیل کر دیا ہے ورلڈ بینک اور اقوامِ متحدہ کو کراچی کو رہنے کے قابل شہر بنانے کیلئے پروگرام شروع کرنا پڑا، تواتر سے بڑھتی زیادتیوں اور ناانصافیوں کے باعث ایم کیو ایم کا حکومت کا حصہ ہونا ناکافی ہورہا ہے سڑکیں ہمارا آخری حل ہیں آپ ہمیں اس جانب دھکیل رہے ہیں نیک نیتی کا کوئی شائبہ دکھائی نہیں دے رہا کراچی پاکستان کی معیشت اور جمہوریت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہے کیا اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا کوئی حل تلاش کیا جائے گا؟
ایم کیو ایم وطنِ عزیز کو شراکتی شمولیتی حقیقی جمہوریت سے روشناس کرنے کا نسخہ کیمیا ایوان میں پیش کرچکی ہے جس کی کوئی مخالفت نہیں کرسکتا اورعمل درآمد کی ہمت نہیں رکھتا یہ سیاسی نہیں آئینی قانونی 25 کروڑ لوگوں کا مسئلہ ہے ایم کیو ایم کے پاس اصل جمہوریت کے ثمرات عوام کی دہلیز پر پہنچانے کا نسخہ موجود ہے، سید مصطفی کمال نے کہا کہ جب جب ہمارے پاس اختیارات رہے کراچی نے ترقی کی، ہمارے دور کا بلدیاتی نظام اسکی شاندار مثال ہے، موجودہ حکومت اور پاکستان مسلم لیگ ن نے حکومت بنانے سے پہلے ہمارے مجوزہ آئینی مسودہ کی حمایت کی اور معاہدے پر دستخط کئے، ملک میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی صرف ایم کیو ایم کے آئینی مسودہ کے ذریعے ممکن ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کو اگر آگے لیکر جانا ہے تو شراکتی شمولیتی حقیقی جمہوریت کا نفاذ کرنا ہوگا، ہم نے اپنے شہروں، دیہاتوں، قصبوں اور اضلاع کو بااختیار بنانا ہوگا تاکہ وہ ترقی کے انجن بنیں اور پاکستان ترقی کے منازل طے کرے۔ اِس موقع پر سینئر رہنما سید امین الحق اور دیگر ارکان بھی موجود تھے