سرجانی اسکیم 41کے ڈی اے رسمی کاروائیاں

سرجانی ٹاؤن کی سو ایکڑ زمین ادارہ ترقیات کراچی کی رسمی کاروائیاں
سو ایکڑ زمین پر 3500 پلاٹ شہریوں کو دئیے جانے تھے مسلسل لاپرواہی کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا
پروجیکٹ ڈائریکٹر اور بہت بڑی تعداد میں موجود افسران وعملہ کے ہونے کا کوئی فائدہ نہیں
اسکیم 41 سرجانی ٹاؤن کی سو ایکڑ زمین کے آدھے سے زائد پر قبضہ ہوچکا ہے
سرجانی ٹاؤن اسکیم 41 میں بھی زمین وا گزار کروانے کے نام پر کاروائی کی جارہی ہے

کراچی(تجزیاتی رپورٹ: سید محبوب احمد چشتی) سرجانی ٹاؤن کی سو ایکڑ زمین جو کہ متوسط طبقے کو رہائش فراہم کرنے کیلئے فراہم کی گئی تھی قبضہ مافیا کے شکنجے میں سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ زمین دی گئی تھی جس پر ادارہ ترقیات کراچی خاطر خواہ کام نہیں کرسکی اور خالی زمینیں دیکھ کر قبضہ مافیا کی نظروں میں آگئی اور اب تک 375 ایکڑ سے زائد زمین پر جعلی گوٹھ اور اسکیمیں موجود ہیں جسے واگزار کروانے میں کے ڈی اے یکسر ناکام دکھائی دیتی ہے اس سو ایکڑ زمین پر 3500 پلاٹ شہریوں کو دئیے جانے تھے لیکن مسلسل لاپرواہی کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا اس زمین کی لاگت اربوں روپے لاگت کی ہے جسے شہریوں کو فروخت کیا جانا تھا لیکن سرجانی ٹاؤن جوکہ ادارہ ترقیات کراچی کے زیر انتظام پروجیکٹ کی حیثیت سے کام کر رہا ہے

لیکن یہ پروجیکٹ ڈائریکٹر اور بہت بڑی تعداد میں موجود افسران وعملہ موجود ہونے کے باوجود قبضہ مافیا کے ہتھے چڑھ گیا ہے اب جبکہ اسکیم 41 سرجانی ٹاؤن کی سو ایکڑ زمین کے آدھے سے زائد پر قبضہ ہوچکا ہے تو ادارہ ترقیات کراچی اسے وا گزار کروانے کی کوشش کر رہا ہے اور ممکنہ طور پر یہ پچھلی کوششوں کی طرح اس مرتبہ بھی ناکامی سے دوچار ہوسکتا ہے کیونکہ جعلی گوٹھ اور ہاؤسنگ اسکیمیں سیاسی سہارا لے کر اسے بااسانی ناکام بناسکتی ہیں البتہ ایک ہی طرح سے یہ زمین دوبارہ اصل شکل میں آسکتی ہے کہ اس میں غیر قانونی ہی صحیح لیکن آباد لوگوں کو متبادل جگہیں فراہم کرنے کیلئے راستے پیدا کئے جائیں

سرجانی میں کئی سیکٹرز بہترین رہائشی اور تجارتی مراکز پر مشتمل ہیں لیکن یہ دلچسپ صورتحال ہے کہ سو ایکڑ سرکاری زمین پر قبضہ مافیا ریاست کی بھی ریاست بن کر قابض ہوگئی اور کسی جانب سے قبضہ ہونے پر آواز ہی نہیں اٹھائی گئی ،کراچی کی ان گنت زمینیں قبضہ مافیا لوٹ کا مال سمجھ کر لوٹ چکے ہیں لیکن شہری ادارے اپنا حصہ لے کر خاموش تماشائی بنے رہے جب پانی سر سے اونچا ہونے لگتا ہے تو رسمی کاروائی کردی جاتی ہے جس کا کوئی حاصل نہیں ہوتا ،سرجانی ٹاؤن اسکیم 41 میں بھی زمین وا گزار کروانے کے نام پر کاروائی کی جارہی ہے لیکن کچھ عرصے بعد ممکنہ طور پر خاموشی کا راج ہوگا جیسے ماضی میں ہوتا رہا ہے لیکن اس عمل کے دوران چند اربوں پتی بن جائیں گے اور شہری مناسب قیمت پر رہائشی اسکیموں سے محروم کر دئیے جائیں گے

اپنا تبصرہ لکھیں