کراچی میں رہائشی پلاٹوں کو کمرشل کیٹیگری میں تبدیل کرنے پر پابندی ختم ایک تاریخی فیصلہ، کوکب اقبال
دبئی پراپرٹی قانون کی طرز پر سخت قوانین کے نفاذ کا مطالبہ
کراچی ……. کوکب اقبال چیئرمین کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے کیپ ہیڈ آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جس کے تحت کراچی میں رہائشی پلاٹوں کو کمرشل کیٹیگری میں تبدیل کرنے پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو کراچی شہر کی ترقی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور رئیل اسٹیٹ شعبے کے لیے ایک تاریخی اور اہم فیصلہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد کراچی میں رہائشی جائیدادوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے معزز عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس فیصلے کو سراہا۔
کوکب اقبال نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ دبئی پراپرٹی قانون کی طرز پر پاکستان بھر میں بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے سخت اور مؤثر قوانین نافذ کرے تاکہ عوام کے اربوں روپے محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی بلڈر یا ڈیولپر کو عوام سے براہ راست بکنگ لینے کی اجازت نہ دی جائے بلکہ تمام بکنگ حکومتی اداروں کی نگرانی میں ہو۔
انہوں نے کہا کہ بلڈرز کو پابند کیا جائے کہ وہ منصوبہ شروع کرنے سے قبل سیکیورٹی رقم حکومت کے پاس جمع کروائیں تاکہ تاخیر یا منصوبہ مکمل نہ ہونے کی صورت میں متاثرہ خریداروں کو حکومت کی طرف سے معاوضہ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں خصوصاً کراچی میں رئیل اسٹیٹ فراڈ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جہاں معصوم شہری اشتہارات اور پرکشش مارکیٹنگ سے متاثر ہو کر سرمایہ کاری کرتے ہیں لیکن بعد میں نہ انہیں جائیداد ملتی ہے اور نہ رقم واپس ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی بلڈرز ایسے منصوبے بھی فروخت کر رہے ہیں جن کے پاس زمین ہی موجود نہیں ہوتی۔ اس لیے حکومت کو فوری طور پر ایک مضبوط ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنی چاہیے جو بکنگ سے لے کر قبضہ دینے تک تمام مراحل کی نگرانی کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو رہائشی جائیدادوں کو کمرشل استعمال میں تبدیل کرنے کے حوالے سے واضح قوانین بھی بنانے چاہئیں تاکہ رہائشی علاقوں کا ماحول متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر مناسب قانون سازی نہ کی گئی تو رہائشی علاقوں میں ڈینٹنگ ورکشاپس، گوداموں اور تقسیم کاری کے مراکز جیسے کاروبار شروع ہو سکتے ہیں جس سے شہریوں کو مشکلات پیش آئیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہزاروں خریدار آج بھی مختلف ہاؤسنگ اسکیموں میں اپنی جمع پونجی پھنسنے کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو فوری طور پر سخت قوانین نافذ کرنے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے وائس چیئرمین کیپ محمد کمال مغل کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ان صارفین کے مسائل حل کرے گی جو بلڈرز کی جانب سے وقت پر جائیداد کی فراہمی میں تاخیر کا شکار ہیں۔ یہ کمیٹی منظور شدہ نقشوں کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے تحت جائیدادوں کا معائنہ بھی کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ طارق روڈ پر جلد ہی پراپرٹی شکایات مرکز قائم کیا جا رہا ہے جہاں کوئی بھی صارف براہ راست بلڈرز کے خلاف شکایت درج کرا سکے گا۔
انہوں نے بلڈرز کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہامعصوم صارفین کے ساتھ کھیلنے سے باز رہیں، ہم ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔