کراچی میں بجلی کے سنگین بحران

کراچی میں بجلی کے سنگین بحران پر ایم کیو ایم کے اراکینِ سندھ اسمبلی کی بھرپور مذمت، کے الیکٹرک اور صوبائی حکومت کی ملی بھگت سے عوام رل گئی ہے

مئی کی شدید گرمی میں 14 سے 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کراچی کے عوام کا معاشی و ذہنی قتلِ عام ہے، متبادل نہ دیا تو کے الیکٹرک کے دفاتر کا گھیراؤ کریں گے، حق پرست اراکینِ سندھ اسمبلی

سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی، گلستان جوہر، ملیر، لانڈھی، کورنگی سمیت پورا شہر اندھیروں میں ڈوب گیا، تاجر برادری تباہ اور اسپتالوں میں مریض تڑپنے لگے، متحدہ ارکانِ سندھ اسمبلی

کراچی۔۔۔…… متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے ملک کے معاشی حب کراچی میں جاری بدترین اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کے الیکٹرک کی اجارہ داری اور سندھ حکومت کی مجرمانہ خاموشی کے خلاف پارلیمانی اور عوامی سطح پر بھرپور احتجاج کا عندیہ دیا ہے، متحدہ اراکینِ اسمبلی کہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے معاشی انجن اور ساڑھے تین کروڑ کی آبادی والے شہر کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مفلوج کیا جا رہا ہے جسے اب مزید کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، اراکینِ اسمبلی کا کہنا تھا کہ مئی کی اس چلچلاتی دھوپ اور حبس زدہ موسم میں شہر کے غریب اور متوسط علاقوں میں 14 سے 18 گھنٹے کی طویل لوڈ شیڈنگ غیر انسانی اور بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے،

اوور بلنگ اور فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر شہریوں کی جیبوں پر اربوں روپے کا ڈاکا ڈالنے کے باوجود کراچی کو اندھیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، اراکینِ سندھ اسمبلی نے شہر کے مختلف اضلاع کے متاثرہ علاقوں کا تفصیلی احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ سرجانی لیاقت آباد نیو کراچی نارتھ ناظم آباد اورنگی ٹاؤن اور فیڈرل بی ایریا جیسے گنجان آباد علاقوں میں رات کے مختلف پہروں میں مسلسل کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رکھی جا رہی ہے جس کے باعث معصوم بچوں بزرگوں اور مریضوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، کورنگی لانڈھی شاہ فیصل کالونی ملیر اور رفاہ عام سوسائٹی میں بجلی کی طویل بندش کے باعث پانی کا بحران بھی سنگین ہو چکا ہے اور شہری بوند بوند پانی کو ترس گئے ہیں، لیاری بلدیہ ٹاؤن کیماڑی اور گلستانِ جوہر کے متعدد بلاکس میں بدترین لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے مقامی صنعتیں اور چھوٹے کاروبار بند ہو چکے ہیں جبکہ اسکول جانے والے طلبہ کی امتحانی تیاری شدید متاثر ہو رہی ہے،

حق پرست اراکینِ اسمبلی نے وفاقی ریگولیٹری ادارے نیپرا سے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا جائے اور اس کے لائسنس کی تجدید پر فوری نظرثانی کی جائے، انہوں نے کہا کہ ہر سال اربوں روپے کا منافع کمانے والا ادارہ اپنے سسٹم کو اپ گریڈ کرنے میں کیوں ناکام رہا ٹیکنیکل فالٹ کا فرسودہ راگ اب نہیں چلے گا، ادارے کا فوری طور پر کسی عالمی فرم سے تھرڈ پارٹی فورنزک آڈٹ کرایا جائے تاکہ عوام کے خون پسینے کی کمائی کا حساب لیا جا سکے، ایم کیو ایم اراکینِ پارلیمان نے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے،

کے الیکٹرک کی اس بدمعاشی پر صوبائی وزراء کی خاموشی معنی خیز ہے، انہوں نے حکومت اور کے الیکٹرک انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر غریب دشمن لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ فوری بند نہ ہوا تو ایم کیو ایم نہ صرف سندھ اسمبلی کے فلور پر شدید احتجاج کرے گی بلکہ کراچی کے عوام کو ساتھ لے کر کے الیکٹرک کے صدر دفتر اور شہر کی اہم شاہراہوں پر دھرنے دیئے جائیں گے جس سے پیدا ہونے والی امن و امان کی تمام تر ذمہ داری کے الیکٹرک اور سندھ حکومت پر عائد ہوگی

اپنا تبصرہ لکھیں