ڈاکٹر عشرت العباد خان کا یومِ مزدور پر بڑا بیان: محنت کش ملک کی ریڑھ کی ہڈی قرار
عالمی یوم مزدور پر مزدوروں کے حقوق کی ادائیگی کا مطالبہ
کم از کم تنخواہ 65 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
کے ایم سی اور ٹی ایم سی ملازمین اور پنشنرز کو فوری ادائیگی کا مطالبہ
دو تین سال سے تنخواہوں سے محروم ملازمین کے بقایاجات ادا کرنے کا مطالبہ
سرکاری اداروں میں کرپشن، جعلی بھرتیوں اور ترقیوں پر سخت تنقید
سن کوٹہ اور طبی سہولیات بحال کرنے کا مطالبہ
میری پہچان پاکستان مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد میں ساتھ دینے کا اعلان
کراچی …….. سابق گورنر سندھ اور میری پہچان پاکستان (ایم پی پی ) کے روحِ رواں ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ محنت کش کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، اور (شکاگو کے مزدوروں) کی لازوال قربانی کو آج بھی پوری دنیا میں یاد رکھا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بات لیبر ڈے کے موقع پر کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی اور ملک کے دیگر شہروں میں لیبر ونگ کے ذمہ داران اور محنت کشوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر انچارج سینٹرل کمیٹی ایم پی پی نہال احمد صدیقی، نگران لیبر ونگ سیف یار خان، پنجاب سے وسیم گوندل سمیت دیگر رہنما اور کراچی کے مختلف اداروں کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مزدور کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنا لازم ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج نہ مزدور کو بروقت تنخواہ ملتی ہے اور نہ ہی اس کے بنیادی حقوق دیے جاتے ہیں۔
انہوں نے بلدیاتی اداروں خصوصاً کے ایم سی اور ٹی ایم سی اور دیگر محکموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی ملازمین کو بڑھائی گئی تنخواہیں نہیں دی گئیں، پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی نہیں ہو رہی، جبکہ بعض ملازمین کو 2 سے 3 سال سے ایک روپیہ تک ادا نہیں کیا گیا۔ لیو انکیشمنٹ کی ادائیگی بھی روک دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اداروں میں پسند و ناپسند، انتقامی کارروائیوں اور رشوت کے بغیر کام نہ ہونے کا کلچر پروان چڑھ رہا ہے، جس کے باعث حقداروں کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ واٹر کارپوریشن میں طبی سہولیات بند کر دی گئی ہیں اور سن کوٹہ بھی ختم کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 35 سے 45 سال خدمات انجام دینے والے ملازمین بھی اپنے بچوں کو ملازمت دلانے سے قاصر ہیں۔
ڈاکٹر عشرت العباد خان نے جعلی بھرتیوں اور ترقیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میرٹ کا قتل عام کیا جا رہا ہے، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ادارے تباہ ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر عشرت العباد خان کے یومِ مزدور پر مطالبات
مزدوروں اور ملازمین کو بروقت تنخواہوں اور واجبات کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے
کم از کم تنخواہ 65 ہزار روپے مقرر کی جائے اور مہنگائی کے تناسب سے اس میں باقاعدہ اضافہ کیا جائے۔
کے ایم سی اور ٹی ایم سیاور دیگر اداروں کے پنشنرز کو فوری طور پر پنشن کی ادائیگی کی جائے۔
2 سے 3 سال سے تنخواہوں سے محروم ملازمین کو تمام بقایاجات ادا کیے جائیں۔
لیو انکیشمنٹ اور دیگر مالی حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔
سرکاری اداروں میں کرپشن، رشوت اور پسند و ناپسند کے کلچر کا خاتمہ کیا جائے۔
جعلی بھرتیوں اور ترقیوں کو ختم کر کے میرٹ کی بحالی کی جائے۔
واٹر کارپوریشن اور دیگر اداروں میں طبی سہولیات بحال کی جائیں۔
سن کوٹہ کو بحال کر کے ملازمین کے بچوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے واضح پالیسی دی جائے۔
مزدوروں کے لیے سوشل سیکیورٹی، ہیلتھ انشورنس اور دیگر فلاحی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔
تعصب کا خاتمہ کر کے تمام افراد کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہر فورم پر ان کی آواز بلند کرتی رہے گی