پیپلزپارٹی جے شنکر جیسا وزیرکون؟

صوبائی وزیر تعلیم کا متعصبانہ بیان سندھ میں نسلی منافرت پھیلانے کی دانستہ کوشش اور پیپلز پارٹی کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے، ترجمان ایم کیو ایم پاکستان

سردار شاہ عوام کے بجائے شر پسند سندھی قوم پرستوں کے آلہ کار بن چکے ہیں، اقتدار کے نشے میں بدمست حکمران بھارتی وزیر جے شنکر کی طرح ہذیان بک رہے ہیں، ترجمان ایم کیو ایم پاکستان

چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی بصیرت افروز سوچ ہی سندھ کے مظلوم عوام کو وڈیروں اور جاگیرداروں کے خونی تسلط سے نجات دلائے گی، ترجمان ایم کیو ایم پاکستان

پیپلز پارٹی کی قیادت صوبائی وزیر کے غیر ذمہ دارانہ بیان کا فوری نوٹس لے، بردباری سے عاری سیاست سندھ کی سالمیت کے لیے خطرناک ہے، ترجمان ایم کیو ایم پاکستان

کراچی…….. متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ترجمان نے صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ کے حالیہ متعصبانہ بیان پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی قابلِ مذمت اور افسوسناک قرار دیا ہے، ترجمان نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ سندھ میں نسلی تعصب اور نفرت کے بیج بونے کی شرمناک کوشش دراصل صوبائی کابینہ کی کلیدی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہے اور سردار شاہ سندھ کے کروڑوں عوام کے نمائندے بننے کے بجائے محض سندھی قوم پرستوں کے ترجمان کے روپ میں سامنے آئے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سیاسی بردباری اور برداشت کی اقدار سے مکمل طور پر نابلد ہوچکی ہے

ترجمان نے واضح کیا کہ انتظامی نااہلی اور عوامی وسائل کی لوٹ مار کے بعد اب پیپلز پارٹی کی قیادت شدید اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہے اور اقتدار کی ہوس میں اندھے سندھ کے یہ قابض حکمران اپنے بیانات میں بھارتی وزیر جے شنکر کی طرح ہذیان بکنے لگے ہیں جو ان کی پست ذہنی سوچ کا عکاس ہے، ترجمان نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سیاسی سوچ اور جدوجہد کا محور سندھ کے چپے چپے کو وڈیروں، جاگیرداروں اور وڈیرہ شاہی کے سیاہ تسلط سے آزاد کروانا ہے اور ان کی پالیسی گاؤں، گوٹھوں اور شہروں کے مقامی افراد کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا ہے

تاکہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے عام آدمی کی محرومیاں ختم ہوسکیں، ایم کیو ایم پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اپنے صوبائی وزیر کے اس اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیان کا فوری نوٹس لے کر ان سے سخت بازپرس کرے ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ اس تمام تر نسلی منافرت کی پشت پناہی خود بلاول ہاؤس سے کی جا رہی ہے

اپنا تبصرہ لکھیں