کراچی بچاؤ مہم خالصتاً فلاحی جدوجہد ہے

متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیرِ صدارت مرکز بہادر آباد میں سینئر مرکزی رہنماء سید امین الحق اور کیف الوری کے ہمراہ مرکزی شعبہ جات کا اہم اجلاس

کراچی بچاؤ مہم خالصتاً فلاحی جدوجہد ہے، رمضان میں خدمتِ خلق ترجیح اول ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

پاکستان کمیشن آف انکوائریز ایکٹ کے تحت گل پلازہ سانحے پر وفاقی کمیشن عوامی مطالبہ ہے ایم کیو ایم متاثرین کو انصاف کی فراہمی کے لئے ہر سطح پر آواز بلند کرے گی، چیئرمین متحدہ

کراچی۔۔۔.…متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیرِ صدارت مرکز بہادر آباد میں مرکزی شعبہ جات کا انتہائی اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سینئر مرکزی رہنماء سید امین الحق کیف الورٰی بھی شریک تھے، اجلاس میں سانحہ گل پلازہ، کراچی بچاؤ مہم اور رمضان المبارک کے دوران خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کے تحت امدادی سرگرمیوں سے متعلق امور اور آئندہ کی جامع حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو کسی قیمت پر تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور شفافیت پر مبنی پاکستان کمیشن آف انکوائریز ایکٹ کے تحت تحقیقاتی کمیشن کے قیام اور کامل انصاف کی فراہمی تک ایم کیو ایم خاموش نہیں بیٹھے گی،

انہوں نے کہا کہ وفاقی کمیشن کا مطالبہ محض ایک سیاسی موقف نہیں بلکہ عوامی امنگوں اور متاثرین کے درد کا حقیقی ترجمان ہے جس کے لئے ہر فورم پر بھرپور آواز بلند کی جاتی رہے گی، چیئرمین متحدہ نے کراچی بچاؤ مہم کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ

یہ مہم کسی سیاسی مفاد کے تحت نہیں بلکہ خالصتاً عوامی اور فلاحی جدوجہد ہے، مہم کے ذریعے شہر کے صنعتکاروں تاجر برادری وکلاء ڈاکٹرز اساتذہ کرام صحافیوں اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کو کراچی کے بنیادی مسائل اور تحریک کے مقاصد سے آگاہ کر کے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے گا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے رمضان المبارک میں خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کے تحت غریب و نادار افراد شہداء کے لواحقین اور مستحق خاندانوں میں راشن کی تقسیم اور مالی امداد کے اقدامات کو فوری طور پر عملی جامہ پہنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمت ایم کیو ایم کی سیاست کا بنیادی ستون ہے، جس سے کسی صورت انحراف نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں مرکزی شعبہ جات کے انچارجز و اراکین موجود تھے

اپنا تبصرہ لکھیں