انفرادی ترقی بے لگام طرزفکرقوم ؟

کراچی کی ترقی میں اجتماعی طرز فکرنظرانداز
تحریر: سید محبوب احمد چشتی

کراچی والوں کے دل پاکستان کیساتھ ڈھرکتے ہیں پھرکیوں اس قلب کوزخمی کرنے کا سلسلہ آج تک جاری ہے
جن ملکوں میں اجتماعی ترقی کے پہلوؤ ں کونظرانداز کردیاجاتاہے وہاں غلامی کے سائے گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں
انفرادی ترقی کی بے لگام طرزفکرقوموں کی بربادی کا سبب بن جایاکرتی ہیں میرا شہرکہنابہت آسان ہوتا ہے لیکن ہمارا شہربنانابہت مشکل ہوتاہے
ہرادوارمیں کراچی نے ترقی کی تو اسکے ساتھ ساتھ مفاداتی طرفکررکھنے والوں نے بھی ترقی کے ریکارڈ قائم کیئے
اندون وبیرون ملکوں میں اس شہرکی محبت و نفرت میں ذاتی اثاثے بناکراس شہرکے ساتھ اجتماعی زیادتی کافلسفہ ہم سب کے سامنے پیش کیا گیا

ترقی کے معنی ہرانسان کے ذہن میں الگ الگ ہوتے ہیں ایک اجتماعی ترقی کی فکرہوتی ہے اور دوسری مفاداتی ترقی ہوتی ہے دین اسلام میں ترقی سے کھبی منع نہیں کیاگیابلکہ ترقی کاہرپہلواللہ تبارک تعالیٰ کے احکامات اور سرکاردعالم حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطابق ہوتو دنیاکیساتھ آخرت بھی سنور جاتی ہے دور جدید میں جدت کے مختلف رنگ تو نظرآتے ہیں لیکن ان میں انسانیت کیساتھ خلوص کے رنگ جیسے کہیں کھوگئے ہیں دنیاکے ہرمذہب میں انسانیت کے وجودکو ایک خاص مقام حاصل ہے اور پوری دنیا میں دین اسلام کو انسانیت کا سب سے بڑا مذہب قرار دیاجاتاہے اور اسکی سب سے بڑی وجہ اور خوبصورتی یہ ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے باعث وجودکائنات بنی کریم حضرت محمدمصطفی ٰ ۖ کو رحمت العالمین بناکربھیجا انسانیت کے ہم نے ہرادوار میں مختلف رنگ دیکھے ہیں کچھ سیاہ اور سفیدلیکن یہ قدرت کی جانب سے طے کردیاگیا ہے سچ میں اللہ کی نصرت اور جھوٹ میں اللہ کی لعنت ہے لعنت اللہ علی الکاذِبِین سوچنے سمجھنے کیلیئے بہت بڑی بات ہے پورادین ہے صرف اتنی مختصر سے آیت میں آ پکوبتادیاگیاہے کہ جھوٹ نہیں بولو لیکن کراچی کی موجودہ صورتحال پر جھوٹ ہی جھوٹ نظرآرہا ہے

پوری دنیامیں ترقی کرنے کے معاملات الگ الگ نظرآتے ہیں شہروں کی ترقی کی بات اگرکی جائے تو دنیامیں یہ بھی نظرآ تاہے کہ اپنے وطن سے محبت کے بعداپنے شہروں کی ترقی کے لیئے عملی کردار کیساتھ ذہنی یعنی بہترین تجاویز کیساتھ شہروں کی ترقی میں اپناکردار ادکیاجاسکتاہے جن ملکوں میں اجتماعی ترقی کے پہلوؤ ں کونظرانداز کردیاجاتاہے وہاں غلامی کے سائے گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں انفرادی ترقی کی بے لگام طرزفکرقوموں کی بربادی کاسبب بن جایاکرتی ہیں میرا شہرکہنابہت آسان ہوتا ہے لیکن ہمارا شہربنانابہت مشکل ہوتاہے وطن کی ترقی کا دارومدار شہروں کی ترقی پرمنحصرہوتاہے اور یہ اس وقت ممکن ہوتاہے جب ہم اس پرعمل کرنے کی کوشش کریں اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے شہروں کی ترقی کے معاملات کااگرجائزہ لیا جائے تو اس حقیت سے انکارممکن نہیں ہے کہ کراچی کی ترقی کاپہیہ پورے ملک کے کارخانوں کوچلاتاہے اسی وجہ سے پور ملک اور سندھ کو کراچی کی ترقی کااحسامند ہوناچاہیئے کہ کراچی کے وسائل کراچی کوچھوڑ پورے ملک میں استعمال ہورہے ہیں

کراچی کوفتع کرنے کی کاوشیں عرصہ داراز سے جاری ہیں لیکن کراچی والوں کے قلب کو فتع کرنے لیئے کوئی تیار نہیں ہے اجتماعیت ترقی کے رنگ یہاں نظرکیوں نہیں آتے جبکہ یہ اٹل حقیقت ہے کراچی والوں کے دل پاکستان کیساتھ ڈھرکتے ہیں پھرکیوں اس قلب کوزخمی کرنے کا سلسلہ آج تک جاری ہے پوراملک جانتاہے کہ کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے تو کیوں اس ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جارہی ہے کیوں اسکے وسائل لیکراسکو مسائل دیئے جارہے ہیں اس شہرنے پاکستان کی عوام کو وہ کچھ دیا ہے جسکی مثال پوری دنیامیں دیکھنے کونہیں ملتی کراچی سب کا ہےنعرہ تولگادیاجاتاہے لیکن کراچی کے مسائل ،اسکے دکھ ،اسکے درد سب کے کیوں نہیں ہوتے ہیں کراچی اگرسب کاہے تواسکے مسائل بھی سب کے ہیں شہرکراچی کی ترقی کس کس کے دور میں ہوئی مفاداتی طرزفکررکھنے والوں کے لیئے کسی نعمت سے کم نہیں تھی کیونکہ اگرہرادوارمیں کراچی نے ترقی کی تو اسکے ساتھ ساتھ مفاداتی طرفکررکھنے والوں نے بھی ترقی کے ریکارڈ قائم کیئے اندون وبیرون ملکوں میں اس شہرکی محبت ونفرت میں ذاتی اثاثے

بناکراس شہرکے ساتھ اجتماعی زیادتی کافلسفہ ہم سب کے سامنے پیش کیا گیا یعنی آسان الفاظوں میں یوں بھی کہہ لیاجائے کہ کراچی والوں کے لیئے محاذآرائی کرتے کرتے وہ سب امیرسے امیر ہوتے چلے گئے اور کراچی والوں کی قسمت میں ٹوٹی سڑکیں ،سیوریج کا گندا بدبودار پانی گیس وبجلی کی لوڈشیڈنگ ،تجاوزات ،تاجروں کی مسل بڑھتی پریشانیاں ،کاروبار وینٹی لیٹرز پر ، اسڑیٹ کرائم بے پناہ مسائل کراچی کے مقدر میں لکھ دیئے گئے ہیں گزشتہ سال دی اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو ) کی جانب سے جاری کردہ ‘گلوبل لائیو ایبلٹی انڈیکس‘ کے مطابق، کراچی کو رہائش اور معیارِ زندگی کے اعتبار سے دنیا کا چوتھا بدترین شہر قرار دیا گیاتھا۔ اس عالمی درجہ بندی میں شہر کی بنیادی سہولیات کی کمی کو بھی پڑھےلکھوں نے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھادیا یعنی دنیا کے 173 شہروں کی اس فہرست میں کراچی چوتھابدترین شہرقرار دیا جاچکا ہے اور یہ اس وقت ہورہا ہے جب سندھ اسمبلی بھی موجود ہے اور ساری سیاسی جماعتیں بھی موجود ہیں افسوس کی بات ہے کہ بنیادی مسائل پرصرف بیانات دیکر عوام کے زخموں پرنمک چھڑکا جارہاہے

جس جس کے بینک بلینس بڑھتے جارہے ہیں وہ کراچی کو ترقی یافتہ شہروں میں شمار کرتاہے اور سفیدپوش کی سفیدپوشی کسی امتحان سے گزرے بغیر قائم نہیں رہتی ہےاس شہرکی قسمت کے فیصلے ہرادوار میں ہوتے رہے ہیں اچھے برے ہوں بہت اچھے ہوں لیکن اس شہرکیساتھ کسی نے بھی اچھا برتاؤنہیں کیا وسائل لیکر کراچی کو مسائل دینا اب یہ کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے اس شہرکوتختہ مشق بنانے کی نیٹ پریکٹس کل بھی جاری تھی اور آج بھی جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں