سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی نا اہلی سے عید الاضحیٰ پر خطرناک صورتحال کا خدشہ ہے،سیف الدین ایڈوکیٹ
شاہرا ہ بھٹو تعمیر ہو گئی،لیکن صرف ایک سڑک کی تعمیر سے کراچی کے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے، اپوزیشن لیڈر کی پریس بریفنگ
مرتضیٰ وہاب اہلِ کراچی کے لیے ولن ہیں ٹاؤنز کی ترقیاتی اسکیمیں بھی کے ایم سی کو منتقل کرنا کھلا تعصب اور بلدیاتی اختیارات پر ڈاکہ ہے
ماڈل ٹاؤن میں ایم کیو ایم کے شرپسند عناصر کے حملے کھلی دہشت گردی ہے ٗدہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں
کراچی ……. اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے ہفتہ کو اپوزیشن لیڈر آفس، بلدیہ عظمیٰ کراچی میں شہری، بلدیاتی و دیگر مسائل کے حوالے سے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ عیدالاضحی قریب ہے مگر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اور ٹاؤنز کے درمیان تاحال کوئی واضح حکمت عملی طے نہیں ہوسکی۔ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ فوری نوٹس لیں اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو عید الاضحیٰ کے موقع پر آلائشیں اُٹھانے کے عمل میں فعال کردار ادا کرنے کا پابند کریں، بصورت دیگر خدشہ ہے کہ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی شہر آلائشوں سے بھر جائے گا۔ شاہراہ بھٹو تعمیر ہوگئی لیکن صرف ایک سڑک کی تعمیر سے کراچی کے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے؟ کیا عوام کو پینے کا پانی مل گیا ہے؟ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور سیوریج کا نظام درست ہو گیا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ مرتضیٰ وہاب اہلِ کراچی کے لیے ولن بنتے جارہے ہیں۔ ان کی نا اہلی و ناکامی چھپانے کے لیے ٹاؤنز کی ترقیاتی اسکیمیں بھی کے ایم سی کو منتقل کی جارہی ہیں، جو کھلا تعصب اور ٹاؤن کے حق پر ڈاکہ ہے،

کراچی کے مسائل کے مستقل حل کے لیے بلدیاتی اداروں کو مکمل اختیارات، وسائل اور خودمختاری دی جائے تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔قابض میئر کراچی مرتضیٰ وہاب جو بھی اعلانات کرتے ہیں، ان پر عملدرآمد نہیں کرتے، ایم یو سی ٹی، پانی کے کنکشن، شادی ہالوں کی آمدنی، ٹریڈ لائسنس اور دیگر معاملات سے متعلق کیے گئے وعدے آج تک پورے نہیں کیے گئے۔ سٹی کونسل میں جس قرارداد کو چاہتے ہیں اس پر”اتفاقِ رائے سے منظور“لکھ دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ مرتضیٰ وہاب آج بھی خود کو ایڈمنسٹریٹر سمجھ رہے ہیں، اختیارات و وسائل کو آمرانہ انداز میں استعمال کررہے ہیں۔سٹی کونسل کے گزشتہ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جماعت اسلامی کے اراکین سٹی کونسل پر حملہ کیا اور قابض میئر مرتضیٰ وہاب پورا منظر مسکرا کر دیکھتے رہے۔ ان کایہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں پارلیمانی روایات اور جمہوری اقدار سے کوئی سرو کار نہیں۔کراچی میں جب بھی رمضان، عیدالفطر یا عیدالاضحی جیسے اہم مواقع آتے ہیں تو واٹر بورڈ کی لائنیں پھٹنا شروع ہوجاتی ہیں۔ اس وقت بھی شہر کے 80 فیصد سے زائد علاقوں میں پانی کا شدید بحران ہے۔ شبہ ہے کہ بعض عناصر جان بوجھ کر یہ سازشیں کرتے ہیں تاکہ شہریوں کو مہنگے داموں واٹر ٹینکر خریدنے پر مجبور کیا جاسکے۔
مرتضیٰ وہاب بتائیں کہ بقول ان کے حب نہر منصوبہ مکمل ہونے سے کراچی کے عوام کو پانی ملے گا تو آج بھی کراچی کے بیشتر علاقے پانی سے محروم کیوں ہیں؟سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دورِ بلدیات خصوصاً مرحوم نعمت اللہ خان کے دور میں کبھی سٹی کونسل میں دھینگا مشتی، بدتمیزی اور سیاسی انتقام کی سیاست دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس وقت حزبِ اختلاف کو برابر کے فنڈز دیے جاتے تھے، اپوزیشن کی آواز سنی جاتی تھی اور تقاریر کے لیے مکمل وقت فراہم کیا جاتا تھا، مگر آج پیپلز پارٹی نے بلدیاتی اداروں کو آمریت کی طرز پر چلانا شروع کردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے محدود وسائل اور اختیارات کے باوجود اہلِ کراچی کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ماڈل ٹاؤن میں ایک ہزار گلیوں کی تعمیر کا منصوبہ جاری ہے، جماعت اسلامی کے 9ٹاؤنز میں ترقیاتی کام شفافیت اور دیانت داری کے ساتھ جاری ہیں۔ دوسری جانب سندھ حکومت کے اربوں روپے کے بجٹ کے مقابلے میں ٹاؤنز کو انتہائی محدود وسائل دیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کا انفرااسٹرکچر مکمل تباہ حالی کا شکار ہے۔ شہر کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، گٹر ابل رہے ہیں، تجاوزات کی بھرمار ہے جبکہ شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود پارکوں کی حیثیت تبدیل کی جارہی ہے، وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد خصوصاً رہائشی پلاٹوں پر غیر قانونی تعمیرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔
بلڈرز چند ماہ میں کئی کئی منزلہ عمارتیں تعمیر کررہے ہیں اور ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ماڈل ٹاؤن میں ایم کیو ایم کے شرپسند عناصر کے حملے کھلی دہشت گردی اور بزدلانہ کارروائی ہے۔ ایم کیو ایم کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ وہ اپنی پرانی دہشت گردانہ سیاست ترک کرچکی ہے۔ کراچی کے عوام اسے انتخابات میں مسترد کرچکے ہیں، اس لیے وہ تشدد کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے احتجاج کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی مگر اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی۔ہمارا مطالبہ ہے کہ اس حملے کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کیں جائیں اور حملہ آواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔پریس بریفنگ میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر تیمور احمد، میڈیا کوآر ڈی نیٹر شاہد فرمان اور دیگر یوسی چیئر مین بھی موجود تھے