بنیادی مسائل برقرار رہنا لمحۂ فکریہ ہے

کراچی کی ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر اور ناقص بلدیاتی کارکردگی پر بھی عملی اقدامات کیے جائیں، ایم پی پی

ڈاکٹر عشرت العباد خان کے دورِ گورنری کو کراچی اور سندھ کی ترقی کا سنہری دور قرار

گرین بس، فلائی اوورز، انڈر پاسز، امن و امان اور سرمایہ کاری میں بہتری ڈاکٹر عشرت العباد کے نمایاں کارنامے قرار

کرپشن، بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی نے کراچی کو شدید مسائل سے دوچار کردیا، مرکزی کمیٹی

کراچی کے شہری آج بھی ترقیاتی دور اور مضبوط بلدیاتی نظام کو یاد کرتے ہیں، ایم پی پی

سندھ حکومت شہری مسائل کے مستقل حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے، مطالبہ

ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور جرائم کے خاتمے میں ڈاکٹر عشرت العباد خان کا کردار اہم قرار

کراچی کو عالمی معیار کا شہر بنانے کے لیے شفاف احتساب ناگزیر ہے، مرکزی کمیٹی

کے ایم سی، ٹاؤنز اور دیگر بلدیاتی اداروں میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت قرار

سیاسی مصلحتوں اور بدانتظامی نے شہرِ قائد کا انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا، بیان

عوام کو اعلانات نہیں بلکہ عملی ریلیف اور بنیادی سہولیات درکار ہیں، ایم پی پی

پانی، سیوریج، صفائی اور سڑکوں کے مسائل نے شہری زندگی اجیرن بنادی، مرکزی کمیٹی

کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے باوجود بنیادی مسائل برقرار رہنا لمحۂ فکریہ قرار

میڈیا کی آواز دبانے سے حقائق تبدیل نہیں ہوسکتے، ایم پی پی کا مؤقف

کراچی پاکستان کی معیشت کا مرکز، مگر شہری سہولیات بدترین صورتحال کا شکار ہیں

بلدیاتی اداروں میں مبینہ کرپشن اور ناقص کارکردگی پر سخت احتساب کا مطالبہ

کراچی کے تاجروں، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا، مرکزی کمیٹی

کراچی………. میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کی مرکزی کمیٹی نے سندھ حکومت اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ اعلانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شارع بھٹو کا افتتاح خوش آئند ضرور ہے، تاہم کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر، نایاب پانی، تجاوزات، صفائی کی ناقص صورتحال، ٹریفک کے مسائل اور کمزور بلدیاتی نظام پر بھی اگر سنجیدہ اور ہنگامی بنیادوں پر عملی منصوبہ دیا جاتا تو شہریوں کو حقیقی ریلیف مل سکتا تھا۔

مرکزی کمیٹی کے مطابق کراچی کے تاجر، صنعتکار، آبادگار، سرمایہ کار اور عام شہری سندھ حکومت کی مجموعی کارکردگی سے شدید نالاں دکھائی دیتے ہیں جبکہ میئر کراچی اور مختلف ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز (ٹی ایم سیز) کے چیئرمین تین سال گزرنے کے باوجود عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ شہر کے بیشتر علاقوں میں سڑکیں تباہ حال، سیوریج نظام مفلوج اور صفائی کا نظام ناکامی کی تصویر بنا ہوا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ شہید ذولفقار علی بھٹو کی سیاسی خدمات سے انکار ممکن نہیں، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سابق گورنر سندھ، نشانِ امتیاز اور میری پہچان پاکستان کے روحِ رواں ڈاکٹر عشرت العباد خان ے اپنے 14 سالہ دورِ گورنری میں کراچی اور سندھ میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں، امن و امان کی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے تاریخی کردار ادا کیا۔

مرکزی کمیٹی نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت العباد خان کے دور میں کراچی میں متعدد فلائی اوورز، انڈر پاسز، سڑکوں کی توسیع، سگنل فری راہداریوں، گرین بس منصوبے، پارکس، کھیلوں کے میدان، اسپتالوں کی اپ گریڈیشن، پانی کے منصوبوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر عملی کام ہوا۔ ان کے دور میں شہر میں بین الاقوامی سرمایہ کاری آئی، صنعتوں کا اعتماد بحال ہوا اور کراچی ایک بار پھر روشنیوں، تجارت اور سرگرمیوں کا مرکز بنتا دکھائی دیا۔

بیان کے مطابق ڈاکٹرعشرت العباد خان نے سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان(مرحوم) اور سابق میئر سیدمصطفیٰ کمال کے ادوار میں سابق صدر سیدپرویز مشرف سے کراچی کے لیے خصوصی فنڈنگ دلوائی، جس کے نتیجے میں شہر میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے اور کراچی کو ایک بین الاقوامی شہر کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی گئی۔

مرکزی کمیٹی نے مزید کہا کہ ڈاکٹر عشرت العباد خان کے دور میں کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور جرائم کے خلاف مؤثر اقدامات کیے گئے، جس کے باعث شہری زندگی اور کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی۔ بیرونی سرمایہ کاروں، سفارتی حلقوں اور کاروباری برادری نے بھی اس دور کو نسبتاً بہتر اور مستحکم قرار دیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ سندھ میں گزشتہ 19 برس سے اقتدار میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادی آج کراچی کے مسائل سے لاتعلقی اختیار نہیں کرسکتے۔ عوام آج بھی ڈاکٹر عشرت العباد خان کو یاد کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے مشکل حالات میں بھی شہریوں کے مسائل سننے، اداروں کو متحرک رکھنے اور ترقیاتی کاموں کی نگرانی کا عملی نظام قائم رکھا۔

ایم پی پی کی مرکزی کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ بلاول بھٹو زرداری کراچی کو عالمی معیار کا شہر بنانے کے لیے گلی گلی اور شاہراہوں کی تعمیر، سیوریج نظام کی بہتری، پانی کی منصفانہ فراہمی، تجاوزات کے خاتمے، بلدیاتی اداروں کی اصلاح، کے ایم سی اور ٹاؤنز میں کرپشن کے خاتمے اور شفاف احتساب کو یقینی بنائیں۔

بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ کرپشن، بدانتظامی، سیاسی مصلحتوں اور ناقص منصوبہ بندی نے کراچی کو “کرچی کرچی” کر دیا ہے، جبکہ میڈیا کی آواز دبانے یا تنقید کو نظر انداز کرنے سے حقائق تبدیل نہیں ہوسکتے۔ ایم پی پی نے امید ظاہر کی کہ ان کی تجاویز کو تنقید کے بجائے اصلاح اور عوامی مفاد کے جذبے کے تحت لیا جائے گا تاکہ کراچی کے عوام کو حقیقی ریلیف اور بہتر شہری سہولیات فراہم کی جاسکیں

اپنا تبصرہ لکھیں