صوبے کا محسن شہر سوتیلی ماں کے سلوک کی بھینٹ چڑھ گیا، ترقی کے دعوے محض بیانات تک محدود ہیں، حق پرست اراکینِ سندھ اسمبلی
ترقی کے دعوے اور زمینی حقائق کا تضاد ارادوں کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان
شہر کی مسلسل تنزلی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کو محض انتظامی نااہلی قرار دینا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے، متحدہ ارکانِ صوبائی اسمبلی
فضاؤں میں ایسے مذموم عزائم اور سازشوں کی بو محسوس کی جا رہی ہے جن کا مقصد اس شہر کی اہمیت کو کم کرنا یا اسے کسی خاص سیاسی ایجنڈے کے تحت یرغمال بنانا ہے، حق پرست اراکینِ سندھ اسمبلی
عوام اب محض بیانات سے مطمئن ہونے والے نہیں انہیں عملی اقدامات اور اپنے جائز حقوق کی بازیابی چاہیئے، ایم کیو ایم پاکستان
کراچی……. متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے کہا ہے کہ پورے صوبے کی معیشت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے والا شہر آج خود اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے، معاشی حب اور صوبے کو پالنے والے اس شہر کو دانستہ طور پر بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا ہے جس سے یہ تاثر قوی ہوتا جا رہا ہے کہ اس ابتر صورتحال کے پیچھے کوئی خاص منصوبہ بندی یا مخصوص مقاصد کارفرما ہیں، مرکز بہادر آباد سے جاری کردہ بیان میں حق پرست اراکینِ سندھ اسمبلی نے کہا کہ ترقی کے دعوے اور زمینی حقائق کا تضاد ارادوں کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے، حکومتی ایوانوں میں ترقی کے بلند و بانگ دعوے اور اعداد و شمار کی جادوگری تو دکھائی دیتی ہے لیکن زمینی حقائق ان بیانات کا منہ چڑا رہے ہیں، کاغذوں پر بننے والی سڑکیں اور فائلوں میں دبے ہوئے میگا پراجیکٹس عوام کی زندگی میں کوئی تبدیلی لانے میں ناکام رہے ہیں،
متحدہ اراکینِ سندھ اسمبلی کا کہنا ہے کہ ترقی کا شور محض اشتہارات کی حد تک محدود ہے جبکہ عملی طور پر شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے، ایک طرف عوام مہنگائی کے تازیانوں سے ادھ موئی ہو چکی ہے تو دوسری طرف انہیں جان بوجھ کر ایسے دیگر مسائل بجلی پانی گیس کی قلت اور بدامنی میں الجھا دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی سکت بھی کھو بیٹھیں، عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کی دوڑ میں اس طرح تھکا دیا گیا ہے کہ وہ بڑے سیاسی و معاشی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے بجائے محض بقاء کی جنگ تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، شہر کی مسلسل تنزلی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کو محض انتظامی نااہلی قرار دینا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے،
فضاؤں میں ایسے مذموم عزائم اور سازشوں کی بو محسوس کی جا رہی ہے جن کا مقصد اس شہر کی اہمیت کو کم کرنا یا اسے کسی خاص سیاسی و معاشی ایجنڈے کے تحت یرغمال بنانا ہے، سہولیات کی دانستہ محرومی اس جانب اشارہ ہے کہ شہر کو ریلیف دینے کے بجائے اسے مسائل کی آماجگاہ بنا کر کچھ پسِ پردہ مقاصد حاصل کرنا مقصود ہیں، حق پرست ارکانِ سندھ اسمبلی نے مزید کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ مقتدر حلقے اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اگر اس اہم شہر کو یونہی نظر انداز کیا جاتا رہا تو اس کے اثرات نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کی معیشت اور استحکام پر پڑیں گے، عوام اب محض بیانات سے مطمئن ہونے والے نہیں انہیں عملی اقدامات اور اپنے جائز حقوق کی بازیابی چاہیئے