آزادیِ صحافت پر پہرے معاشروں کے زوال کا پیش خیمہ ہوتے ہیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
قلم کی حُرمت کا تقاضا ہے کہ وہ اقتدار کے ایوانوں میں مصلحت پسندی کے بجائے عوامی امنگوں کی ترجمانی کرے، چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ
متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا عالمی یومِ آزادیِ صحافت پر خصوصی پیغام
کراچی۔۔۔…..متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے عالمی یومِ آزادیِ صحافت پر اپنے خصوصی پیغام میں صحافت کو ریاست کا ضمیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس معاشرے میں سچ بولنے کی قیمت جان کی صورت میں ادا کرنی پڑے وہاں انصاف اور ترقی کے خواب ادھورے رہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ آزادیِ اظہار کوئی خیرات نہیں بلکہ وہ بنیادی انسانی حق ہے جس پر کسی سمجھوتے کی گنجائش نہیں، مرکز بہادر آباد سے جاری کردہ بیان میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں معلومات کے ہجوم میں سچائی کو گم کیا جا رہا ہے،
قلم کی حُرمت کا تقاضا ہے کہ وہ اقتدار کے ایوانوں میں مصلحت پسندی کے بجائے عوامی امنگوں کی ترجمانی کرے، انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح جسم کے لئے روح لازم ہے اسی طرح ریاست کی بقاء کے لئے آزاد ابلاغ عامہ کا وجود ناگزیر ہے، چیئرمین ایم کیو ایم نے حق گوئی کی پاداش میں شہید ہونے والے صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ہی وہ چراغ ہیں جو آمریت اور فسطائیت کے اندھیروں میں روشنی پھیلاتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مہیب دھمکیاں اور قید و بند کی صعوبتیں ان لوگوں کے عزم کو نہیں ڈگمگا سکیں جنہوں نے حرفِ حق کی ابجد سیکھی ہے،
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے صحافیوں کے معاشی استحصال کو سفید پوشی پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی طور پر کمزور صحافی سے آزادانہ فیصلے کی توقع کرنا خود فریبی ہے، میڈیا ہاؤسز میں کام کرنے والے محنت کشوں کی تنخواہوں میں تاخیر اور جبری برطرفیاں دراصل آزادیِ اظہار کو مفلوج کرنے کی مذموم کوششیں ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کرے اور صحافیوں کے تحفظ کو محض کاغذوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر یقینی بنائے، ڈاکٹر خالد مقبول نے کہا کہ اگر مملکت دلیل کی طاقت کا مقابلہ گولی سے کرے تو تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ قلم کے حق میں ہی آتا ہے