مصطفیٰ کمال جنیوا عالمی ہیلتھ پاکستان نمائندگی

مصطفیٰ کمال کی جنیوا میں جاری اٹھہترویں (78) عالمی ہیلتھ اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی

مرکزی رہنما ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی کیوبا کے وزیر صحت ڈاکٹر خوسے آنخیل پورٹل میرندا سے اہم ملاقات

مصطفیٰ کمال کو کیوبا کے نظام صحت کا مشاہدہ کرنے کے لیے دورے کی دعوت

پاکستان اور کیوبا کے درمیان علمی و سائنسی تبادلے ہو سکتے ہیں، دونوں وزراء صحت کا اتفاق

کراچی۔۔۔۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال جنیوا میں جاری اٹھہترویں (78) عالمی ہیلتھ اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں جس میں تمام ممالک وبائی امراض سے تیاری، یونیورسل ہیلتھ کوریج، اور غیر متعدی بیماریوں جیسے اہم ایجنڈے پر اتفاق کریں گے۔

وفاقی وزیر صحت کی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے موقع پر سائیڈ لائنز ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مصطفیٰ کمال نے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے موقع پر کیوبا کے وزیر صحت سے ملاقات کی۔ دونوں وزراء کے درمیان صحت کے نظام سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ مصطفی کمال نے 2005 کے زلزلے کے دوران کیوبا سے 2000 اہلکاروں پر مشتمل امدادی مشن بھیجنے حکومتِ کیوبا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پرائمری ہیلتھ کیئر اور سیکنڈری سطح کی نگہداشت کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی۔

مصطفیٰ کمال نے کیوبا حکومت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کیوبا نے ایک مضبوط اور مربوط نظام صحت قائم کیا ہے جس سے ہمیں سیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ کیوبا کے وزیر صحت ڈاکٹر خوسے آنخیل پورٹل میرندا نے کہا کہ ہمارے مربوط نظام صحت کے تحت 70 سے 80 فیصد مریض ابتدائی سطح پر ہی صحت کی سہولیات حاصل کرتے ہیں جو ایک کامیاب ماڈل ہے اور پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ ملاقات میں ادویات کی پیداوار کے حوالے سے تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے پاکستان اور کیوبا کے درمیان مستقل اور قریبی رابطے قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر صحت کیوبا نے مصطفیٰ کمال کو کیوبا کے نظام صحت کا مشاہدہ کرنے کے لیے دورے کی دعوت دی اور ویکسین و ادویات کی تیاری، پاکستانی طلباء، ڈاکٹروں اور ماہرین کو تربیت دینے کے لیے مکمل تعاون کی پیشکش کی۔ مصطفیٰ کمال نے دعوت پر شکریہ ادا کیا

اور قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد کیوبا کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ ہے اور ہر سال 70 لاکھ نئے بچوں کی ویکسینیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ویکسین اور ادویات کی تیاری کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی پر ایک دوسرے کے تعاون کو بڑھایا جائے گا۔ کیوبا کے وزیر صحت نے بتایا کہ کیوبا نے COVID-19 کے دوران تین کامیاب ویکسین تیار کیں جبکہ اب مزید 11 ویکسین پر کام جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان علمی و سائنسی تبادلے ہو سکتے ہیں۔ دونوں وزراء نے ایک دوسرے کا شکریہ ادا کیا اور مستقل رابطے کے قیام پر اتفاق کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں