ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ویکسین کی مقامی پیداوار میں فوری بنیادوں پر اضافے کی ہدایت
پاکستان میں بیشتر بیماریاں آلودہ پانی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ مصطفیٰ کمال
اسلام آباد ….. ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ویکسین کی مقامی پیداوار میں فوری بنیادوں پر اضافے کیلئے اقدامات کو تیز کیا جائے۔ ہمیں اس اہم شعبے میں قومی خود انحصاری حاصل کرنی ہے تاکہ نہ صرف ملکی ضروریات پوری کی جا سکیں بلکہ برآمدات بھی ممکن بنائی جا سکیں نیز پانی و صفائی کو بیماریوں سے بچاؤ اور کنٹرول کی قومی حکمتِ عملی کا لازمی جزو بنایا جائے۔ پاکستان میں بیشتر بیماریاں آلودہ پانی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
جب تک ہم پانی کی آلودگی کے مسئلے کو حل نہیں کرتے، صحت مند پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں پینے کے صاف پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ عوام گندے اور آلودہ پانی کا استعمال کر رھے ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں، عوام کو بیماریوں سے بچانے کیلیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے عوام میں شعور اجاگر کرنا ہوگا جس کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو شامل کر کے ایک نیشنل پالیسی تشکیل دینا ہو گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) اسلام آباد کا دورہ کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مصطفیٰ کمال نے ویکسین کی تیاری کی سہولت، جدید لیبارٹریز، بشمول پبلک ہیلتھ لیب، پولیو ریجنل ریفرنس لیبارٹری اور واٹر و فوڈ ٹیسٹنگ لیب کا معائنہ کیا۔ مصطفیٰ کمال نے سیرہ ایکشن ویکسین پروڈکشن سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہیں ویکسین کی تیاری کے عمل، موجودہ پیداواری صلاحیت، اور اس میں اضافے کے امکانات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ انہوں نے نیشنل ہیلتھ ڈیٹا سینٹر کا بھی دورہ کیا
جہاں انہیں سی ای او این آئی ایچ ڈاکٹر محمد سلمان نے تفصیلی بریفنگ دی۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) اسلام آباد بے پناہ صلاحیت کا حامل ہے، ادارے کو عوام کی صحت و تندرستی کے تحفظ کے لیے بھرپور طریقے سے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے