پاکستانی معیشت چیلنجز ، بحالی کی امید

پاکستانی معیشت گزشتہ پانچ برسوں کے چیلنجز اور بحالی کی امید
‎ تحریر: سید فواد نعیم

پاکستان کی معیشت گزشتہ پانچ برسوں کے دوران غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے گزری ہے۔ ایک جانب کورونا وبا، عالمی معاشی سست روی، مہنگائی اور توانائی کے بحران جیسے عوامل تھے تو دوسری جانب سیاسی عدم استحکام، بڑھتے ہوئے قرضے اور قدرتی آفات نے بھی ملکی معیشت کو متاثر کیا۔ ان تمام عوامل نے نہ صرف قومی معیشت بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔

‎سال 2020 میں کورونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا اور پاکستان بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا۔ لاک ڈاؤن کے باعث کاروباری سرگرمیاں محدود ہو گئیں، صنعتوں کی پیداوار میں کمی آئی اور لاکھوں افراد روزگار کے مسائل سے دوچار ہوئے۔ اگرچہ حکومت نے احساس پروگرام اور دیگر فلاحی اقدامات کے ذریعے متاثرہ طبقات کو سہارا دینے کی کوشش کی، لیکن وبا کے معاشی اثرات کئی برس تک محسوس کیے جاتے رہے۔

‎وبا کے بعد عالمی سطح پر تیل، گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے۔ ملک میں مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھتی رہی اور عام آدمی کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ آٹا، چینی، گھی، دالوں اور دیگر بنیادی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ گھریلو اخراجات میں اضافہ ہوا جبکہ آمدنی کی رفتار اس تناسب سے نہ بڑھ سکی۔

‎اسی دوران پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی واقع ہوئی۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قیمت نے درآمدی اشیاء کو مزید مہنگا کر دیا۔ چونکہ پاکستان اپنی توانائی اور صنعتی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے زرِ مبادلہ کی شرح میں تبدیلی کا براہِ راست اثر ملکی معیشت اور عوام پر پڑا۔ درآمدی بل میں اضافے نے زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھایا۔

‎پاکستان کو گزشتہ چند برسوں میں بیرونی قرضوں اور مالی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا رہا۔ قرضوں کی ادائیگی اور سود کی مد میں قومی خزانے پر بوجھ بڑھتا گیا، جس کے نتیجے میں حکومت کو متعدد مرتبہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مالی معاونت حاصل کرنا پڑی۔ ان پروگراموں کے تحت بعض اصلاحات نافذ کی گئیں جن کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا تھا، تاہم ان اقدامات کے فوری اثرات عام شہریوں کے لیے آسان ثابت نہ ہوئے۔

‎سال 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے معیشت کو ایک اور بڑا دھچکا پہنچایا۔ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آگئی، فصلیں تباہ ہوئیں اور انفراسٹرکچر کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ زراعت، جو پاکستان کی معیشت کا اہم ستون سمجھی جاتی ہے، شدید متاثر ہوئی۔ اس قدرتی آفت کے اثرات خوراک کی قیمتوں اور معاشی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوئے۔

‎معاشی ماہرین کے مطابق سیاسی عدم استحکام بھی اقتصادی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ رہا۔ گزشتہ چند برسوں میں سیاسی کشیدگی اور پالیسیوں میں عدم تسلسل کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا۔ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ گئی جس کا اثر صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پر بھی دیکھا گیا۔

‎تاہم حالیہ عرصے میں بعض معاشی اشاریوں میں بہتری کے آثار بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ مہنگائی کی شرح میں نسبتاً کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور معاشی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ امید کی کرن ثابت ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے، برآمدات میں اضافہ کیا جائے اور ٹیکس نظام کو مؤثر بنایا جائے تو پاکستان معاشی استحکام کی جانب مزید پیش رفت کر سکتا ہے۔

‎پاکستان کی اقتصادی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ چیلنجز کے باوجود ملک میں ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور جغرافیائی اہمیت پاکستان کو ایک مضبوط معاشی قوت بنا سکتی ہے، بشرطیکہ پائیدار پالیسیوں، شفاف حکمرانی اور قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے۔


‎گزشتہ پانچ برس پاکستان کے لیے معاشی آزمائش کا دور رہے، لیکن ہر بحران اپنے ساتھ سیکھنے کے مواقع بھی لاتا ہے۔ اگر ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے مؤثر اصلاحات اور طویل المدتی منصوبہ بندی اختیار کی جائے تو پاکستان نہ صرف موجودہ معاشی مشکلات پر قابو پا سکتا ہے بلکہ پائیدار ترقی اور خوشحالی کی منزل بھی حاصل کر سکتا ہے

اپنا تبصرہ لکھیں