پاکستانی معیشت عالمی نظریات :عقیل اختر

پاکستانی معیشت عالمی نظریات کی روشنی میں

تحریر؛ عقیل اختر

پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے صرف آج کے تناظر میں نہیں بلکہ تاریخ، عالمی معیشت اور ریاستی ساخت کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو 1947 کے بعد ایک نئے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کے ساتھ وجود میں آیا لیکن اس کی معیشت کو کبھی مکمل طور پر ایک مضبوط اور خود کفیل بنیاد نہیں مل سکی۔ ابتدا میں ہی ریاست کو سیکیورٹی کے چیلنجز کا سامنا رہا، جس کی وجہ سے وسائل کا بڑا حصہ دفاعی ضروریات کی طرف چلا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ آبادی بڑھتی گئی، ضروریات بڑھتی گئیں، لیکن معیشت کی ترقی اس رفتار سے نہیں ہو سکی جس رفتار سے اخراجات بڑھ رہے تھے۔ یہی وہ بنیادی عدم توازن ہے جو آج تک برقرار ہے۔ پاکستان میں اکثر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ عوام پر بہت زیادہ ٹیکس ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے ٹیکس آمدن دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ مسئلہ ٹیکس کی شرح نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ کا محدود ہونا ہے۔ معیشت کا بڑا حصہ غیر رسمی ہے، جس میں لوگ ٹیکس کے نظام سے باہر رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست کے پاس ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے پر خرچ کرنے کے لیے محدود وسائل رہ جاتے ہیں۔ دوسری طرف عام شہری کو یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ اس پر بوجھ زیادہ ہے کیونکہ بالواسطہ ٹیکس جیسے پیٹرول، بجلی، گیس اور روزمرہ اشیاء پر لاگت بڑھ رہی ہے، اور یہ ٹیکس ہر طبقے پر برابر اثر ڈالتے ہیں چاہے وہ امیر ہو یا غریب۔ اس وجہ سے عوامی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہو جاتا ہے کہ ملک میں ٹیکس بہت زیادہ ہیں۔اس کے ساتھ ایک اور بڑا مسئلہ قرضوں کا ہے۔ پاکستان کی معیشت کئی دہائیوں سے قرضوں پر چل رہی ہے۔

جب ریاست اپنی آمدن سے زیادہ خرچ کرتی ہے تو وہ قرض لیتی ہے۔ یہ قرض ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور بعض اوقات صرف موجودہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بھی لیا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ قرض بڑھتا جاتا ہے اور اس پر سود کی ادائیگی بھی بڑھ جاتی ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ صرف پرانے قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو پیسہ تعلیم، صحت یا ترقی پر لگنا چاہیے وہ ماضی کے قرضوں کو واپس کرنے میں استعمال ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے جب تک معیشت کی بنیاد مضبوط نہ ہو جائے۔ اسی وجہ سے اکثر کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی معیشت ایک“فِسکل پریشر”میں ہے جہاں آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہیں۔کرپشن بھی اس نظام کا ایک اہم لیکن اکیلا سبب نہیں۔ کرپشن کا مطلب صرف پیسے کا غلط استعمال نہیں بلکہ وسائل کی غیر مؤثر تقسیم بھی ہے۔ جب ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کم ہو تو ان کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور ان کا فائدہ کم ہو جاتا ہے۔ اس سے عوامی اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ لیکن اگر صرف کرپشن کو ہی پورے مسئلے کی بنیاد سمجھ لیا جائے تو یہ تجزیہ مکمل نہیں ہوتا۔ دنیا کے کئی ممالک میں کرپشن کے باوجود معاشی نظام بہتر ہے کیونکہ وہاں ادارے مضبوط اور پالیسیاں مستقل ہیں۔ پاکستان میں اصل مسئلہ ادارہ جاتی کمزوری اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کا بھی ہے۔ ہر حکومت اپنی ترجیحات کے ساتھ آتی ہے اور اکثر پچھلی پالیسیوں کو مکمل طور پر جاری نہیں رکھتی، جس کی وجہ سے طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے۔سیاست بھی اس پورے نظام کا اہم حصہ ہے۔ غیر مستحکم سیاسی حالات معیشت کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔

جب سرمایہ کار کو یہ یقین نہ ہو کہ پالیسی پانچ سال بعد بھی وہی رہے گی تو وہ سرمایہ کاری سے ہچکچاتا ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی بھی پالیسی سازی کو متاثر کرتی ہے۔ بعض اوقات فیصلے طویل مشاورت کے بجائے فوری ردعمل کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، جس سے معیشت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔اگر ہم عالمی تاریخ کی طرف دیکھیں تو ہمیں ایک واضح پیٹرن نظر آتا ہے۔ معروف مؤرخ پال کینیڈی اپنی مشہور کتاب“The Rise and Fall of the Great Powers”میں یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ ہر بڑی طاقت کو اپنے فوجی اخراجات اور معاشی طاقت کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی ریاست اپنی فوجی ذمہ داریوں کو اپنی معاشی صلاحیت سے زیادہ بڑھا دیتی ہے تو وہ آہستہ آہستہ کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس نظریے کو وہ“imperial overstretch”کہتے ہیں، یعنی طاقت کا حد سے زیادہ پھیلاؤ جو معیشت پر دباؤ ڈال دیتا ہے۔ یہ تصور صرف تاریخی سلطنتوں تک محدود نہیں بلکہ جدید ریاستوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیکیورٹی چیلنجز زیادہ ہیں وہاں دفاعی اخراجات لازمی ہیں، لیکن اگر یہ اخراجات معاشی ترقی کے دیگر شعبوں پر غالب آ جائیں تو ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔پاکستان کی معیشت کا ایک اور پہلو اس کی صنعتی کمزوری ہے۔ ملک کی برآمدات محدود شعبوں تک مرکوز ہیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل پر۔ جدید معیشتیں جیسے کہ مشرقی ایشیا کے ممالک نے اپنی برآمدات کو متنوع بنایا اور ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس اور اعلیٰ ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی طرف ترقی کی۔ پاکستان میں یہ تنوع ابھی تک محدود ہے، جس کی وجہ سے زرمبادلہ کی آمدنی بھی محدود رہتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ توانائی کا بحران، انفراسٹرکچر کی کمی اور سرمایہ کاری کے مسائل بھی صنعتی ترقی کو روکتے ہیں۔اگر ہم پاکستان کی معیشت کے بنیادی مسئلے کو ایک جملے میں بیان کریں تو وہ یہ ہوگا کہ ملک کی آمدن اور اخراجات کے درمیان مسلسل فرق موجود ہے۔ آمدن محدود ہے جبکہ اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس فرق کو پورا کرنے کے لیے قرض لیا جاتا ہے اور پھر وہ قرض دوبارہ بوجھ بن جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس میں معیشت مسلسل گھومتی رہتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ تاریخ اور معاشی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ کوئی بھی ملک صرف ایک یا دو اصلاحات سے ترقی نہیں کرتا بلکہ ایک مکمل نظامی تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلے ٹیکس نظام کو وسیع کرنا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ معیشت میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بڑے کاروباری طبقے، زرعی شعبے اور خدمات کے شعبے کو مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ دوسرا، صنعتی ترقی کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ برآمدات بڑھ سکیں اور زرمبادلہ حاصل ہو سکے۔ تیسرا، پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔ چوتھا، انسانی سرمایہ یعنی تعلیم اور ہنر پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی کیونکہ جدید دنیا میں اصل طاقت علم اور مہارت ہے۔ پانچواں، اداروں کے درمیان توازن اور شفافیت ضروری ہے تاکہ فیصلے ذاتی یا وقتی مفادات کے بجائے قومی مفاد میں ہوں۔آخر میں اگر ہم مجموعی طور پر دیکھیں تو پاکستان کا مسئلہ کسی ایک فرد، ادارے یا طبقے تک محدود نہیں۔ یہ ایک تاریخی، ساختی اور نظامی مسئلہ ہے۔

ریاستیں ہمیشہ اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کی معیشت، سیاست اور ادارے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ اگر ان میں عدم توازن پیدا ہو جائے تو مشکلات بڑھتی جاتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کوئی بھی طاقت صرف فوجی قوت سے قائم نہیں رہ سکتی، اصل بنیاد معیشت ہوتی ہے۔ یہی وہ سبق ہے جس کی طرف پال کینیڈی نے بھی اشارہ کیا کہ طاقت کا حقیقی پیمانہ معاشی صلاحیت ہے، اور جب یہ صلاحیت کمزور ہو جائے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی زوال کی طرف جاتی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے نظام کو اس توازن کی طرف لے آئے جہاں آمدن، اخراجات، پالیسی اور ادارے ایک مربوط انداز میں کام کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے پائیدار ترقی ممکن ہو سکتی ہے

اپنا تبصرہ لکھیں