کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں پیٹرول کی مد میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اورانتظامی احکامات کی خلاف ورزی
ممبرایڈمنسٹریشن کےقانونی احکامات کو تاخیر ی حربوں کے ذریعےغیرموثر بنانے کی پالیسی
ڈائریکٹر جنرل کو ادارہ ترقیات کراچی کو بہتری کی جانب لے جانے کے لیئے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے
افسران نے سندھ حکومت کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے
کراچی(رپورٹ: سیدمحبوب احمدچشتی) کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں پیٹرول کی مد میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی احکامات کی خلاف ورزی
ممبرایڈمنسٹریشن کےقانونی احکامات کو تاخیر ی حربوں کے ذریعےغیرموثر بنانے کی پالیسی ڈائریکٹر جنرل کو ادارہ ترقیات کراچی کو بہتری کی جانب لے جانے کے لیئے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے افسران نے سندھ حکومت کے احکامات ہوا میں اڑا دیئےذرائع کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی (کے ڈی اے) میں مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی نظم و ضبط کا فقدان شدت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گریڈ 16 اور 17 کے افسران پیٹرول کی مد میں ماہانہ 50 لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات کر رہے ہیں، جو ادارے کے خزانے پر بھاری بوجھ ثابت ہو رہا ہے۔سندھ حکومت کی جانب سے کفایت شعاری مہم اور پیٹرول کے استعمال کو محدود کرنے کی واضح ہدایات کے باوجود، کے ڈی اے انتظامیہ ان پر عمل درآمد کرانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔
سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال نہ صرف حکومتی پالیسی کی خلاف ورزی ہے بلکہ عوامی ٹیکس کے پیسے کا زیاں بھی ہےمصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ممبر ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ قانونی احکامات اور اصلاحاتی اقدامات کو بعض بااثر حلقوں کی جانب سے “تاخیری حربوں” کے ذریعے غیر موثر بنایا جا رہا ہے۔ افسر شاہی کی اس پالیسی نے ادارے کے انتظامی ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے، جہاں اعلیٰ حکام کے احکامات پر عمل کرنے کے بجائے فائل ورک میں الجھا کر وقت ضائع کیا جاتا ہےشہر کے اہم ترقیاتی ادارے کی گرتی ہوئی ساکھ اور مالی بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے اب تمام نظریں ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے پر لگی ہیں ڈی جی کے ڈی اےادارے کی بہتری کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں،
پیٹرول کے اخراجات کا آڈٹ کرائیں اور ممبر ایڈمنسٹریشن کے احکامات کی راہ میں رکاوٹ بننے والے عناصر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی ناگزیرہے۔ بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ ادارہ مزید مالی بحران کا شکار ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر پڑے گا
دوسری جانب ادارہ ترقیات کراچی کے اہم ذرائع اس بات کا دعوی کررہے ہیں بی پی ایس 16اور17 افسران کا پیڑول بندکردیا گیا ہے لیکن اس حوالے سے کے ڈی انتظامیہ نے باقائدہ کوئی محکمہ جاتی نوٹیفیکشن جاری نہیں کیا واضع رہے ادارہ ترقیات کراچی ممبرایڈمنسٹریشن کی جانب سے اس حوالے سے ایک آڈر جاری کیا گیا تھا