کراچی کے وارث اب خاموش نہیں رہیںگے

​کراچی اسٹریٹیجک ڈویلپمنٹ پلان 2020 کا فوری نفاذ ہی شہر کی بقا کا واحد راستہ ہے، سندھ حکومت کی بدنیتی نے شہر کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا، ڈاکٹر فاروق ستار
ماسٹر پلان 2020 کے بجائے 2047 کے فرضی منصوبوں کا پرچار وسائل کی لوٹ مار اور کرپشن کا نیا رستہ کھولنے کی سازش ہے، سینئر رہنما ایم کیو ایم پاکستان
عدالتِ عالیہ میں ایک لاکھ شہریوں کے دستخطوں پر مشتمل 12 جلدوں کا تاریخی ڈوزیئر جمع، کراچی کے وارث اب خاموش نہیں رہیں گے، ڈاکٹر فاروق ستار
​صوبائی حکومت کی ناکامی پر وفاق آرٹیکل 149 کے تحت فوری مداخلت کرے اور شہر کے انتظامی اداروں کو اپنی تحویل میں لے، ایم کیو ایم کا مطالبہ
عدالتی حکم کے باوجود 17 اداروں کا حلف نامہ جمع نہ کروانا توہینِ عدالت ،گٹر کے کھلے ڈھکن, ٹوٹی سڑکیں انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے، ایڈووکیٹ طارق منصور

​کراچی۔۔۔…… متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما و رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے معروف قانون دان ایڈووکیٹ طارق منصور اور دیگر وکلاء کے ہمراہ سندھ ہائی کورٹ میں کراچی اسٹریٹیجک ڈویلپمنٹ پلان 2020 (کے ایس ڈی پی ) کے نفاذ سے متعلق اہم کیس کی سماعت کے بعد میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ حکومت کے خلاف سخت چارج شیٹ پیش کر دی ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ 2018 میں خود سندھ حکومت کی جانب سے نوٹیفائی کردہ ماسٹر پلان 2020 پر عملدرآمد نہ کرنا ان کی بدنیتی کا منہ بولتا ثبوت ہے

اور اب 2047 کے نام نہاد پلان کے ذریعے کراچی کے وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے ایم کیو ایم ہر محاذ پر ناکام بنائے گی، ڈاکٹر فاروق ستار نے زور دیا کہ کراچی کے چار کروڑ شہریوں کے حقوق پر مزید ڈاکہ ڈالنے نہیں دیا جائے گا اور اگر صوبائی حکومت شہر کو سنبھالنے میں مخلص نہیں ہے تو وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت فوری مداخلت کرے اور لوکل گورنمنٹ کے اداروں کو ٹیک اوور کر کے ماسٹر پلان نافذ کرے تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے، اس موقع پر ایڈووکیٹ طارق منصور نے میڈیا کو قانونی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آج عدالت کے روبرو ایک لاکھ شہریوں کے دستخطوں پر مشتمل 12 ضخیم جلدوں کا تاریخی ریکارڈ جمع کروا دیا گیا ہے

جو یہ ثابت کرتا ہے کہ کراچی کے عوام موجودہ نظام سے بیزار ہیں، انہوں نے انکشاف کیا کہ 17 متعلقہ اداروں کے سربراہان کو حلف نامے جمع کروانے کا حکم دیا گیا تھا لیکن ان کی جانب سے حکم عدولی توہینِ عدالت کے زمرے میں آتی ہے جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں انفراسٹرکچر کی تباہی، گٹروں پر ڈھکن نہ ہونے سے معصوم بچوں کی ہلاکتیں اور سڑکوں کی خستہ حالی کی وجہ سے شہریوں میں ریڑھ کی ہڈی کے امراض (ایل 5 اور 4) میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے جو براہِ راست سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے

ان تمام شواہد کو جلد نیب اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کے فورمز پر بھی لے جایا جائے گا، ایم کیو ایم پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کراچی کے شہریوں کے معاشی اور انتظامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی قانونی اور سیاسی جدوجہد جاں فشانی سے جاری رکھے گی اور جب تک ماسٹر پلان 2020 نافذ نہیں ہوتا، اہل کراچی کا مقدمہ ہر فورم پر لڑا جائے گا۔ اس موقع پر سینئر رہنما نسرین جلیل،انچارج لیبر ڈویژن ارشد انصاری و کمیٹی، مرکزی شعبہ جات زمہ داران اور ٹاؤن و یوسی کارکنان بھی کثیر تعداد میں موجود تھے

اپنا تبصرہ لکھیں