غیر یقینی کیفیت کا شکارسب اچھا کا راگ

کراچی میں صنعت کار اور ڈاکٹر کی ٹارگٹ کلنگ، پکے کے ڈاکووں کی جدید اسلحے کے ساتھ لوٹ مار کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار
ہیوی ٹریفک شہریوں کو کچل رہے ہیں تو دوسری جانب تاجر برادری، آباد اور کراچی کے اسٹیک ہولڈرز غیر یقینی کی کیفیت کا شکار ہو گئے ہیں۔
کراچی میں دوبارہ ڈاکو اور اسٹریٹ کرمنل راج نافذ ہو گیا ہے۔ موت کا رقص کراچی کی سڑکوں پر جاری ہے
بیڈ گورننس سدھارنے کے بجائے سب اچھا ہے کا راگ الاپا جاتا ہے۔ مرکزی کمیٹی ایم پی پی

کراچی ……… ایم پی پی کی مرکزی کمیٹی نے کراچی میں صنعت کار اور ڈاکٹر کی ٹارگٹ کلنگ، پکے کے ڈاکووں کی جدید اسلحے کے ساتھ لوٹ مار کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف ہیوی ٹریفک شہریوں کو کچل رہے ہیں تو دوسری جانب تاجر برادری، آباد اور کراچی کے اسٹیک ہولڈرز غیر یقینی کی کیفیت کا شکار ہو گئے ہیں۔ کراچی میں دوبارہ ڈاکو اور اسٹریٹ کرمنل راج نافذ ہو گیا ہے۔ موت کا رقص کراچی کی سڑکوں پر جاری ہے لیکن بیڈ گورننس سدھارنے کے بجائے سب اچھا ہے کا راگ الاپا جاتا ہے۔ ایم پی پی کراچی آرگنائزنگ کمیٹی نے ہمیں مختلف تجاویز پیش کی ہیں جن کو سربراہ ڈاکٹر عشرت العباد خان کو پیش کیا جائے گا۔ فکر کراچی نشست کی طرح فکر کراچی حل نشست کی ضرورت ہے اور معاملہ اب وفاق اور ارباب اختیار کو دیکھنا چاہئے۔ مشرق وسطی کی جنگ۔ ایران اور اسرائیل و امریکہ کی صورتحال میں مہنگائی کا جن بے قابو ہوچکا ہے۔

غربت کی لکیر سے نیچے آنے والے شدید مضطرب ہیں۔ بھکاری بننے پر مجبور ہیں لیکن انہیں قرضہ دینے والا کوئی نہیں۔ حکومت اس الارمنگ صورتحال کا نوٹس لے سندھ حکومت کی ناکامی اور کراچی کی بدحالی پر اگر فوری نوٹس نہ لیا گیا تو لاوا پک رہا ہے۔ کراچی کے لئے مثبت فیصلے کئے جائیں۔ حکومت سندھ تعصب سے بالاتر ہو کر فیصلے کرے۔ کراچی کے ادارے کرپشن کا گڑھ ہیں۔ نیب نے ٹاؤنز اور کے ایم سی میں بے پناہ کرپشن پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ہم تنقید برائے تعمیر کے تحت ان اداروں کو بہتر کرنے کے لئے نمائندوں کو حلف کے مطابق ذمہ داری ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وسائل کی لوٹ مار بند اور عوام کو ریلیف اور تحفظ پر مبنی اقدامات کئے جائیں۔

کرپٹ اور سسٹم افسران کو ہٹا کر کراچی لوورز کو لگایا جائے جو ایماندار ہوں ا ور کام کریں۔ کے ڈی اے میں اربوں کا کرپشن، ایس بی سی اے میں کرپٹ افراد کو سیہون سے لاکر ادارے کو تباہ کرنا۔ کے ایم سی میں مقامی افسران کے بجائے 17گریڈ کے متنازعہ افسران گریڈ 19/20پر لگانا مجرمانہ عمل ہے۔ بیڈ گورننس اور کراچی کو ترقی کے بجائے مسلسل تنزلی کی طرف لانا کراچی کے احساس محرومی میں اضافہ کر رہا ہے۔ کراچی میں سیکورٹی لیپس ختم کیا جائے۔ سیف سٹی کیمراز اگر کرائم ختم نہیں کرسکتے تو ای چالان اور مہم پر مہم بھی ختم کردیجائے۔ ورنہ کراچی میں ٹھوس اقدامات کئے جائیں ورنہ صورتحال ابتر سے ابتر ہو رہی ہے جسکے نتائج حکومت سندھ کو بھگتنے ہوں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں