حیدرآباد گواہ ہے کہ اب دو سال بعد اس خدمت کی نصف صدی کو پورا کرچکے ہوں گے، بانٹنے والے ہاتھ، خوفِ خدا رکھنے والے ہاتھوں کی دو سال بعد نصف صدی مکمل ہوگی۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
تیسری جنگ عظیم اب دروازے پر آ کر کھڑی ہے، پیٹرول، پانی اپنے لیے نہیں کارکنان سب کیلئے جمع کریں کبھی بھی سپاسنامہ مل سکتا ہے، جو ملک بناسکتے ہیں وہ ہی چلاسکتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ایم کیوایم 10 سالوں سے ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور اس دور میں بھی عوامی خدمات قابل ستائش ہیں۔ شبیر احمد قائمخانی
ایم کیوایم مشکل وقت میں عوام کو اکیلا نہیں چھوڑسکتی، عوام کے دکھ اور مشکلات کو ایم کیوایم کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ ظفر احمد صدیقی
حیدرآباد ………. متحدہ قومی موومنٹ کے زیر اہتمام حیدرآباد میں سالانہ امدادی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کے مہمان خصوصی ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین و وفاقی وزیر برائے تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر مرکزی رہنما کیف الوری،مرکزی رہنما شبیر احمد قائمخانی، سندھ تنظیمی کمیٹی انچارج سلیم رزاق و اراکین ڈسٹرکٹ انچارج ظفر احمد صدیقی و ڈسٹرکٹ کمیٹی حق پرست ارکان قومی و صوبائی اسمبلی عبدالعلیم خانزادہ، راشد خان ایڈوکیٹ، صابر حسین قائم خانی، ناصر حسین قریشی، حیدرآباد کے انچارج ڈاکٹر طاہر خانزادہ و اراکین کمیٹی اور حیدرآباد کی معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے امدادی پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد گواہ ہے کہ اب دو سال بعد اس خدمت کی نصف صدی کو پورا کرچکے ہوں گے، بانٹنے والے ہاتھ، خوفِ خدا رکھنے والے ہاتھوں کی دو سال بعد نصف صدی مکمل ہوگی،

ہم نے سیاست بعد میں خدمت کی بنیاد پہلے رکھی، خدمت کا آغاز 1978 میں کیا، ایم کیو ایم بعد میں بنی، اس تحریک میں گھر لُٹے، ہزاروں کارکنان مارے گئے، خدمت کا جذبہ کم نہیں ہوا شکست دی روکنے والوں کو 48 سال ہوگئے ہمیں کوئی روک نہیں سکا، ہم گرد والے لوگ ہیں بارود والے نہیں، حیدرآباد کی گلی گلی جا کر ہمارے لوگوں نے ضرورت مندوں کو تلاش کیا، امدادی سامان خاموشی سے گھروں پر جائے گا کوئی تصویر نہیں کھینچی جائے گی، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ایم کیو ایم کے ساتھ اس لیے ہوتے ہیں کہ ان کی ضرورت پوری ہو، جو دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کیلئے ایم کیو ایم میں ہیں ان کو سلام پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر تھا اسے گننا بند کر کے دسواں شہر بنایا جارہا ہے، بانیان پاکستان کی اولاد کا پاکستان پھر ایک جنگ سے گزرنے جارہا ہے، پھر ایک جنگ ہمارے دروازے پر پہنچ چکی ہے، اب حوصلہ پکڑنے کا وقت ہے،

اب جینے کے تمام سامان اپنے لیے نہیں سب کیلئے اکھٹے کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیسری جنگ عظیم اب دروازے پر آ کر کھڑی ہے، پیٹرول، پانی اپنے لیے نہیں کارکنان سب کیلئے جمع کریں کبھی بھی سپاسنامہ مل سکتا ہے، جو ملک بناسکتے ہیں وہ ہی چلاسکتے ہیں، ہم پر غیر اعلانیہ پابندی ہے اللہ ان کے لیے راستہ بنارہا ہے، سیاست، ایوان ضرورت ہوسکتی ہے دوسروں کا لیکن ہمارا مقصد نہیں ہے، ایم کیو ایم بنانے کا ارادہ خدمت ہے۔ایم کیوایم پاکستان کے مرکزی رہنما شبیر احمد قائمخانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیوایم (پاکستان) کا منشور صرف اور صرف عوامی خدمت پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم 10 سالوں سے ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور اس دور میں عوامی خدمات قابل ستائش ہیں۔ ڈسٹرکٹ آرگنائزر ظفر احمد صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیوایم مشکل وقت میں عوام کو اکیلا نہیں چھوڑسکتی، عوام کے دکھ اور مشکلات کو ایم کیوایم کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ زلزلہ ہو یا کوئی اور مصیبت ایم کیوایم پاکستان کی قیادت سے لیکر کارکنوں تک عوام کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں