مذاکرات ختم اب ہوگا دما دم مست قلندر

لیبر فرنٹ مزدور یونین ابکار ورکرز یونین نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں انتظامیہ سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے
اور دما دم مست قلندر کے لیے تمام ملازمین کو تیاری کرنے کا کہا ہے
انشاءاللہ بروز بدھ پریس کانفرنس کر کے اپنے بہرپور لائے عمل کا اعلان کیا جائے گا
جس میں قلم چھوڑ ٹول چھوڑ اور تالہ بندی شامل تمام ممکنہ آ پشن ہوسکتے ہیں
سی بی اے چیئرمین ارشاد خان

کراچی ………. لیبر فرنٹ مزدور یونین ابکار ورکرز یونین نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں انتظامیہ سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے
اور دما دم مست قلندر کے لیے تمام ملازمین کو تیاری کرنے کا کہا ہے انشاءاللہ بروز بدھ پریس کانفرنس کر کے اپنے بہرپور لائے عمل کا اعلان کیا جائے گا
جس میں قلم چھوڑ ٹول چھوڑ اور تالہ بندی شامل تمام ممکنہ آ پشن ہوسکتے ہیں مزید تفصیلات کے مطابق لیبر فرنٹ مزدور یونین ابکار ورکرز یونین نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں انتظامیہ سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے تمام ملازمین کو تیاری کرنے کا کہا ہے بروز بدھ پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے بھرپور لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا جس میں مختلف امکانات پر غور کیا جارہا ہے

کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں متحدہ ورکرز فرنٹ (سی بی اے) اور دیگر مزدور یونینوں کے درمیان انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی اور احتجاج کی کال کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی انتظامیہ اور ملازمین کی نمائندہ تنظیموں، جن میں متحدہ ورکرز فرنٹ (سی بی اے)، لیبر فرنٹ مزدور یونین، اور ابکار ورکرز یونین شامل ہیں کے درمیان جاری مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہونے کے بعد ختم کر دیے گئے ہیں۔ یونین رہنماؤں نے انتظامیہ کے رویے کو “مزدور دشمن” قرار دیتے ہوئے تمام ملازمین کو بھرپور احتجاج کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہےمیڈیکل پالیسی میں تبدیلی: انتظامیہ کی جانب سے ملازمین کی طبی سہولیات کو نجی انشورنس کمپنی ے سپرد کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں ملازمین واٹر بورڈ کی ممکنہ نجکاری یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

ادارے میں باہر سے افسران کی تعیناتی کو بھی مسترد کیا جا رہا ہےسی بی اے ویونین رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ بروز بدھ اہم پریس کانفرنس کریں گے جس میں احتجاج کے اگلے مراحل کا باضابطہ اعلان کیا جائے گایونین کی جانب سے 16 اپریل 2026 سے احتجاجی تحریک کا آغاز پہلے ہی ہو چکا ہے، جس کے تحت ملازمین سیاہ پٹیاں باندھ کر کام کر رہے ہیں اور اب اس احتجاج کو فیصلہ کن مراحل میں لانے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے

اپنا تبصرہ لکھیں