کراچی کا ناقص انفراسٹرکچر زہرِ قاتل

ملکی معیشت کی بحالی کے لیے تاجروں اور صنعتکاروں کو درپیش رکاوٹوں کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کاروباری طبقہ معیشت کی شہ رگ ہے، ان کے مسائل کا حل وفاقی سطح پر ہماری اولین ترجیح ہے، چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان
ٹیکسوں کے بھاری بوجھ اور بجلی کی قیمتوں نے بزنس کمیونٹی کی کمر توڑ دی ہے، وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

کے الیکٹرک کی من مانیاں اور شہر کا ناقص انفراسٹرکچر کراچی کی تجارت کے لیے زہرِ قاتل ہے، ڈاکٹر فاروق ستار

کراچی۔۔…….متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیرِ صدارت متحدہ بزنس فورم کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کی موجودہ سنگین معاشی صورتحال اور کاروباری برادری کو درپیش گھمبیر مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار، مرکزی رہنما شبیر احمد قائم خانی، جنرل سیکریٹری مجاہد رسول، وائس پریزیڈنٹس عاصم اعزاز عالم اور عدنان خان سمیت بزنس فورم کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک ترین معاشی موڑ پر کھڑا ہے اور ایسے میں تاجر برادری اور صنعتکار ملک کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،

انہوں نے واضح کیا کہ جب تک بزنس کمیونٹی کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے اور انہیں کام کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم نہیں کیا جاتا تب تک معاشی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی سطح پر تاجروں کے مسائل اٹھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات اور بجلی و گیس,پیٹرول کی قیمتوں میں استحکام لانا وقت کی پکار ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی کی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کیا

اور کے الیکٹرک کے غیر منصفانہ رویے سمیت شہر کے تباہ حال انفراسٹرکچر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی جو پورے ملک کو پالتا ہے اسے جان بوجھ کر بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے جو کہ معاشی دہشت گردی کے مترادف ہے۔ اجلاس میں مرکزی رہنماؤں نے بزنس فورم کے زمہ داران کو ہدایت دی کہ وہ تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے مختلف سطحوں پر کمیٹیاں تشکیل دیں اور حکومت کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنائیں تاکہ معاشی پہیہ تیزی سے چل سکے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کاروباری طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور ان کے مسائل کے حل تک چین سے نہیں بیٹھے گی

اپنا تبصرہ لکھیں