کراچی کی عمارتیں،فائر سیفٹی،سروے ناگزیر

کراچی کی مصروف عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات پر سروے ناگزیر ہوگیا ہے
تحریر: سیدمحبوب احمد چشتی

کراچی کی مصروف عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات پر سروے ناگزیر ہوگیا ہے ،گل پلازہ میں کراچی کی تاریخ کی بدترین آگ لگنے کے بعد کراچی کے شہری سہمے اور ڈرے دکھائی دیتے ہیں اور ان کی جانب سے یہ بات زور پکڑ رہی ہے کہ کراچی میں کسی نہ کسی طرح آج بھی لاشیں گر رہی ہیں جسے سنجیدہ لینے کو کوئی بھی تیار نہیں ہے ،آئین پاکستان اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی وفاق کو اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی ناگہانی کی صورت میں صوبے میں مداخلت کرسکتا ہے لیکن نہ وفاقی حکومت نے اس واقعے میں مداخلت کی جس سے کراچی کے شہریوں میں احساس محرومی شدت اختیار کر گیا ہے

کراچی میں ہزاروں بازار سمیت دیگر مصروف عمارتیں موجود ہیں جس میں ملی بھگت سے ایسی عمارتیں تعمیر کردی گئی ہیں جس میں فائرسیفٹی کے انتظامات موجود نہ ہونے کے ساتھ ایگزٹ یعنی اندر اور باہر جانے کے راستوں کی بھی کمی ہے جس سے شہریوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں گل پلازہ میں ایگزٹ کے کئی راستے موجود تھے لیکن ان کو مارکیٹ کھلی ہونے کے دوران صرف دو دروازوں کو کھلا رکھنا سمجھ سے بالاتر دکھائی دے رہا ہے جبکہ اصولی طور پر جب تک مارکیٹ رواں دواں ہے دروازے کھلے رکھنا انتہائی ضروری ہے اس طرح کے واقعات کو روکنے کیلئے ضروری ہوگیا ہے کہ بازاروں سمیت تمام ایسی عمارتوں جس میں آمدورفت کا سلسلہ رہتا ہے وہاں فائر سیفٹی کے مناسب انتظامات اور ایگزٹ کیلئے معقول راستے ہونے چاہیئں

لہذا سندھ حکومت کو اس جانب فوری توجہ دینی چاہیئے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو پابند کرنا ہوگا کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر کراچی کی مصروف عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر سروے کریں اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے فوری کردار ادا کریں کہ جس عمارت میں دونوں بندوبست نہیں ہیں وہاں عمارت کے مالکان یا کمیٹیز کو پابند کیا جائے کہ وہ اس سلسلے میں فوری انتظامات کریں اور جو اس کی پابندی نہ کریں اس کی لسٹ مرتب کرکے ان کیخلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے گرفتار کرکے کیسز کئے جائیں تو بہت ممکن ہے کہ کم ازکم یہ مسئلہ حل ہو جائےفائراینڈ سیفٹی کے حوالے سے ترجمان سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کہا ہےہیڈ آفس میں فائر سیفٹی کے تمام ضروری انتظامات مکمل طور پر موجود اور فعال ہیں

عمومی طور پر کراچی میں بلڈرز پیسے بٹورنے کیلئے پیسے نچھاور کرکے اپنا مقصد پورا کرلیتے ہیں اور جو عمارتیں وہ تعمیر کرتے ہیں اس کے میٹریل میں نقائص کے ساتھ فائر سیفٹی اور ایگزٹ کے لئے بنائے جانے والے راستوں میں کمی ہوتی ہے بہت سی ایسی عمارتیں کراچی میں باآسانی دیکھی جاسکتی ہیں جہاں مذکورہ لازمی انتظامات کا فقدان ہے جبکہ کراچی بوسیدہ عمارتوں کے لحاظ سے بھی سر فہرست ہے

اولڈ سٹی ایریاز سمیت کراچی کے کئی علاقوں میں عمارتیں اپنی مدت پوری کرچکی ہیں جسے نئے سرے سے بنانے یا کم ازکم بنیادوں سے مرمت کرنے کی ضرورت ہے لیکن چند ایک عمارتوں کو چھوڑ کر ایسی عمارتوں کی بڑی تعداد علیحدہ شہریوں کیلئے خطرے کا الارم بجا رہی ہیں اس معاملے میں صرف سندھ حکومت یا شہری اداروں کو مورد الزام نہیں ٹہرایا جاسکتا کیونکہ خود شہری بھی قدیم عمارتوں کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں

اور ایسی عمارتوں کیخلاف کاروائی ہورہی ہو تو سیاسی اور سماجی سہارا لے کر کسی بھی اچھے کام کو سبوتاژ کر دیتے ہیں تذکرہ کردہ حقائق میں سب سے منظم ومربوط کردار شہریوں کو بھی ادا کرنا ہوگا کہ وہ انسانی جانوں کے ضیاع کا کہیں بھی اندیشہ دیکھیں اس کے لئے آواز بلند کریِں کیونکہ گل پلازہ کے متعدد گیٹ بند ہونے پر کوئی آواز نہ اٹھانے کی وجہ سے بھی یہ افسوسناک سانحہ رونما ہوا ہےاس افسوناک سانحہ پر مختلف شخصیات سوشل میڈیا پر بھرپور آوازیں بلند کررہی ہیں اور اس سانحے کے حوالے سے سماجی رہنما بیرسٹر حسن خان نے سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر بھی کی ہے اس پر یبرسٹرحسن خان نے دیگر اہم نکات کے ساتھ متاثرین کو متبادل جگہ فراہم کرنے کی استدعا کی ہے

اپنا تبصرہ لکھیں