کراچی سانحہ گل پلازہ اور کتنے دکھ ؟

سانحہ گل پلازہ:سیدمحبوب احمدچشتی

پاکستان میں ایک سانحہ سے دوسرے سانحے تک جو درمیانی وقفہ ہوتا ہے اسکوامن کہا جاتا ہے المیہ اس طرح سے بھی کہہ سکتے ہیں ایک سانحہ ہونے بعد بھی اس واقعہ سے سبق لینے کی کوئی روایت قائم نہیں کی جاتی ہے اور درناک اخلاقی پہلو یہ بھی سامنے آ تا ہے کہ کوئی بلدیاتی ادارہ اسکی زمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتا ہے اور الزام تراشیوں کی سیاست حماقت میں تبدیل ہوکراگلے سانحے کا انتظار کرتی ہے نہ جانے یہ شہرکراچی اور کتنے دکھ اپنے دامن میں سمیٹے گا گل پلازہ میں لگنی والی آگ میں اربوں روپے کے نقصان اور انسانی قمیتی جانوں کا ذمہ دار کون ہے تیسرے درجے کی آگ نے شہری انتظامیہ کی قلعی کھول کے رکھ دی کے ایم سی آگ پر قابو پانے میں طوالت برتی رہی جس سے مالی اور جانی نقصان میں اضافہ ہوا

ایک تاجر رہنما منہاج گلفام نے خوفناک انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ رات ساڑھے نو بجے لگنی والی آگ کو کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی آگ بجھانے میں غفلت برتی گئی ہم نے ازخود پیسے خرچ کر کے واٹر ٹینکر منگوائے لوگ آگ میں پھنسے ہوئے تھے لیکن ریسکیو کا کوئی انتظام نہیں تھا تقریبا گل پلازہ کی مارکیٹ خاکستر ہوچکی ہے کئی گھنٹے آگ لگے ہوچکے تھے اور آگ پر قابو نہیں پائی جاسکی تھی جس پر گورنر سندھ سے گزارش کی کہ آگ بجھانا شہری انتظامیہ کے بس کی بات نہیں ہے لہذا پاکستان نیوی سے گزارش کریں کہ وہ آکر اس آگ پر قابو پائے اربوں روپے کا فنڈز جنریٹ کرنے والی مارکیٹ کا کوئی پرسان حال نہیں تھا انہوں نے کہا کہ غفلت برتی گئی ہے آگ کے بلند درجے کو دیکھنے کے بعد فوری طور پر پاکستان نیوی سے رجوع کرنا چاہیئے تھا

تاکہ اربوں روپے کے نقصان کے ساتھ انسانی جانوں کے ضیاع کو بچایا جاسکتا تھا.شہر قائد کی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع مشہور تجارتی مرکز گل پلازہ میں گزشتہ روز قبل لگنے والی آگ انتہائی تباہ کن ثابت ہوئی گرائونڈ فلور پرلگنے والی آگ نے پورے گل پلازہ کو اپنے لیپٹ میں لے لیا کراچی میں گ لگنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتارہاہے لیکن اس سے سبق لینے اور فائرسیفٹی سمیت دیگر اہم ترین انتظامی امور پرتوجہ دینے کے بجائے اگلے سانحے کا انتظار کیا گیا 2021 گورنگی کے تھانہ مہران ٹاؤن میں واقع ایک فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 16 ملازمین جاں بحق ہوئے تھے

25 دسمبر 2023 کو فیڈرل بی ایریا میں واقع عرشی شاپنگ مال میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا 25 نومبر 2023 کو آرجے شاپنگ مال کے چوتھے فلور پر لگنے والی آگ سے کئی افراد جاں بحق جبکہ معتدد زخمی ہوئے تھے۔، امدادی کاموں کے دوران عمارت گرنے سے چار فائر فائٹرز جاں بحق ہوئے تھے یہ واقعہ اپریل 2023 میں نیوکراچی کے صنعتی ایریا کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کے دوران پیش آیا

صدر میں واقع مشہور کوآپریٹیو مارکیٹ اور وکٹوریہ سینٹر میں خوفناک آ تشزدگی ہوئی 2015 میں ریجنٹ پلازہ میں لگنے والی آگ سے متعدد افراد ہلاک ہوگئے تھے ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں پیش آیا، جس میں آتشزدگی کے نتیجے میں 289 ملازمین (مزدور) بشمول خواتین جاں بحق ہوئے۔اور اس واقعہ کا الزام ایم کیو ایم پاکستان پر عائد کیا جاتا رہا ہے جنوری 2008 کو سائٹ ایریا میں رنگ پینٹ بنانے والی غیر ملکی کمپنی میں آتشزدگی ہوئی 15 جنوری 2007 کو سائٹ ایریا میں قائم کپڑے کی فیکٹری میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا جس میں 5 ریسکیو رضاکار جاں بحق ہوئے تھے۔ذرائع کے مطابق 43 فائر ٹینڈر، 8 اسنارکلز، دو باؤ زر جبکہ ایک ریسکیو یونٹ اور ایک فوم یونٹ موجود ہے

لیکن افسوس صد افسوس شہرکراچی کی اتنی بڑی آبادی کے لیئے یہ سازوسامان حشرکا سامان نہ ہوگا تو پھراور کیا ہوگا آ تشزدگی کے بڑے واقعات پر نیوی، فوج اور دیگر اداروں کا تعاون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے شہر میں ہونے والے آتشزدگی کے بڑے واقعات کے بعد صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج، نیوی اور دیگر اداروں سے بھی انتظامیہ تعاون طلب کرتی ہے۔

گل پلازہ کے حالیہ واقعے کے بعد بھی امدادی کاروائیوں کے ساتھ ہمیشہ کی طرح نیوی کے اہلکار اور گاڑیاں جبکہ پاک فوج کے جوان، رینجرز کے جوانوں نے اپنی موجودگی کو ایکبار پھر ثابت کیا سب جانتے ہیں کہ گل پلازہ کراچی کے بڑے تجارتی مرکز میں شامل ہے اس میں آگ لگنے کے بعد ریسکیو کے مناسب اقدامات نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے کے ایم سی سمیت شہری انتظامیہ کے پاس تیسرے درجے کی آگ کو کنٹرول کرنے کی استطاعت نہیں ہے اگر خدانخواستہ یہ آگ بلند درجے کی ہوتی تو یہ نقصان کئی گنا زیادہ ہوتا اور کئی اور جگہیں بھی نیست ونابود ہوسکتی تھیں

پہلے تو اس قسم کے واقعات کو کنٹرول کرنے کا مناسب بندوبست ہونا چاہیئے تجارتی مراکز میں آگ لگنے یا کسی قسم کے دوسرے واقعات ہونے کی صورت میں ایمرجنسی ایگزٹ راستے ہونے چاہیئں جن مصروف عمارتوں میں ایسا انتظام نہیں ہے انہیں فوری طور پر سیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر اس معاملے میں سختی نہیں برتی گئی تو اس قسم کے واقعات میں جانی ومالی نقصان ہوتا رہے گا جہاں شہری انتظامیہ کو آگ بجھانے میں اپنی استطاعت بڑھانی ہوگی وہیں ضروری ہے کہ مصروف عمارتوں میں ایمرجنسی کی صورت میں ایگزٹ کے راستے بنانے کو لازمی قرار دینے کے ساتھ اس پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اللہ تبارک تعالی سانحہ گل پلازہ میں جانبحق ہونے والوں کی مغفرت اور انکے اہل خانہ کو صبرجمیل عطافرمائے(آمین)

اپنا تبصرہ لکھیں