سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڑ ناکام

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڑ اپنے مقاصدمیں ناکام

تحریر عقیل اختر

سندھ حکومت نے جس ادارے کو کراچی سمیت صوبے بھر میں صفائی، ماحولیاتی تحفظ اور جدید سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے دعوؤں کے ساتھ قائم کیا تھا، وہی ادارہ آج قانون، کارکردگی اور عوامی توقعات کے درمیان ایک شرمناک تضاد کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا قیام سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڑایکٹ 2014کے تحت عمل میں آیا، جس کی شق 3 بورڈ کے قیام اور قانونی حیثیت کو واضح کرتی ہے، جبکہ شق 4 کے تحت کچرے کی بروقت کلیکشن، محفوظ ٹرانسپورٹیشن، سائنسی بنیادوں پر ڈسپوزل، ری سائیکلنگ اور ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام جیسے بنیادی فرائض اس کے ذمے عائد کیے گئے۔ مگر اگر کراچی کے کسی بھی ضلع، کسی بھی ٹاؤن یا کسی بھی گلی کا مشاہدہ کر لیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ تمام شقیں صرف قانون کی کتاب تک محدود ہیں، عملی زندگی میں ان کا وجود نظر نہیں آتا۔آج کراچی ایک منظم صفائی نظام کے بجائے غیر قانونی ڈمپنگ پوائنٹس، بند نالوں، تعفن زدہ گلیوں اور جلتے ہوئے کچرے کا شہر بن چکا ہے۔ یہ صورتِ حال کسی قدرتی آفت یا وسائل کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس ادارہ جاتی ناکامی کا ثبوت ہے جسے قانونی طور پر پورے شہر میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی واحد ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ قانون اگر ذمہ داری دیتا ہے تو جوابدہی بھی مانگتا ہے،

مگر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی کارکردگی دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں قانون کو صرف اختیارات، مراعات اور فنڈز کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ اس کی روح یعنی عوامی خدمت کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ایکٹ کی شق 7 بورڈ کی تشکیل اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق ہے، جس کی روح یہ تقاضا کرتی ہے کہ ادارے میں ایسے افراد تعینات ہوں جو تکنیکی، انتظامی اور فیلڈ تجربہ رکھتے ہوں۔ لیکن عملی حقیقت یہ ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سیاسی اثرورسوخ کے تحت تعینات ناتجربہ کار افسران کے حوالے کر دیا گیا ہے، جن کا ویسٹ مینجمنٹ جیسے حساس اور تکنیکی شعبے سے کوئی عملی تعلق نہیں۔ یہ افسران نہ شہر کی زمینی حقیقت کو سمجھتے ہیں، نہ فیلڈ میں نکلنے کی زحمت کرتے ہیں اور نہ ہی خود کو قانون یا عوام کے سامنے جوابدہ محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ان کی تعیناتی اور بقا کارکردگی سے نہیں بلکہ سیاسی سرپرستی سے جڑی ہوتی ہے۔اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ عوام سے براہِ راست کوئی یوزر چارجز وصول نہیں کرتا اور اس کی بنیادی فنڈنگ سندھ حکومت فراہم کرتی ہے، مگر یہی نکتہ اس ادارے پر سوالات کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ صوبائی خزانے سے اربوں روپے سالانہ اس ادارے کو اس لیے دیے جاتے ہیں کہ شہریوں کو صاف، صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے، مگر نتیجہ اس کے بالکل برعکس سامنے آ رہا ہے۔ فنڈز کی دستیابی کے باوجود صفائی کا نظام بہتر ہونے کے بجائے بدتر ہوتا جا رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ نیت، اہلیت اور نگرانی کا ہے۔ایکٹ کی شق 17 کے تحت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو نجی اور غیر ملکی کمپنیوں سے معاہدے کرنے کا اختیار دیا گیا

تاکہ جدید مشینری، بہتر نظم و نسق اور عالمی معیار کی خدمات حاصل کی جا سکیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب مکمل سرکاری ادائیگیوں کے باوجود شہر کچرے سے بھرا ہوا ہے تو ان معاہدوں کا فائدہ کہاں گیا؟ کن کمپنیوں کو ناقص کارکردگی پر جرمانہ کیا گیا، کن معاہدوں کو منسوخ کیا گیا اور کن افسران کو ناقص نگرانی پر جوابدہ ٹھہرایا گیا؟ ان سوالات کے جوابات نہ عوام کو ملتے ہیں اور نہ ہی اسمبلی کے فلور پر سنجیدگی سے زیرِ بحث آتے ہیں، جو اس پورے نظام کو شکوک و شبہات کے دائرے میں لے آتا ہے۔اسی طرح شق 21 بورڈ کو مالی معاملات میں شفافیت، باقاعدہ آڈٹ اور حکومت کو رپورٹنگ کا پابند بناتی ہے، مگر عملی طور پر اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود مکمل آڈٹ رپورٹس عوام کے سامنے نہیں آتیں۔ شہریوں کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ ان کے شہر کی صفائی کے نام پر دیے جانے والے فنڈز کہاں خرچ ہو رہے ہیں، مگر یہاں شفافیت کے بجائے خاموشی نظر آتی ہے، جو کسی بھی عوامی ادارے کے لیے خطرناک علامت ہے۔سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے قیام کا ایک تباہ کن نتیجہ یہ بھی نکلا کہ صفائی جیسے بنیادی اختیارات منتخب بلدیاتی اداروں سے چھین لیے گئے۔ عوام اپنے مسائل لے کر بلدیاتی نمائندوں کے پاس جاتی ہے، مگر وہ نمائندے خود بے اختیار ہیں، جبکہ اصل ذمہ دار ادارہ عوامی دباؤ سے محفوظ رہتا ہے۔

یہ نظام نہ مؤثر ہے، نہ جمہوری اور نہ ہی قانون کی اصل روح سے ہم آہنگ، بلکہ یہ ایک ایسا انتظامی خلا پیدا کرتا ہے جہاں ذمہ داری تو سب پر ڈال دی جاتی ہے مگر جوابدہی کسی کی نہیں ہوتی۔ماحولیاتی قوانین اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے اصول یہ تقاضا کرتے ہیں کہ کچرے کی علیحدگی، محفوظ لینڈ فل سائٹس اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جائے، مگر کراچی میں اس کے برعکس رہائشی علاقوں میں کچرا جلایا جا رہا ہے، غیر قانونی ڈمپنگ پوائنٹس قائم ہیں اور فضائی و آبی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ یہ سب کچھ اس ادارے کی موجودگی میں ہو رہا ہے جو قانونی طور پر ان تمام امور کا نگران ہے، جو اس کی کارکردگی پر ایک سنگین فردِ جرم ہے۔اب سوال یہ نہیں رہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ناکام ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ اس ناکامی کا احتساب کب ہوگا۔ اگر قانون صرف فنڈز لینے، مراعات حاصل کرنے اور اختیارات سمیٹنے کے لیے ہے اور اس پر عملدرآمد کی کوئی حیثیت نہیں، تو پھر ایسے ادارے کا وجود خود عوام کے لیے ایک بوجھ بن جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ادارے کا آزاد اور غیر جانبدار آڈٹ کروایا جائے، تمام معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں، سیاسی بنیادوں پر کی گئی تعیناتیوں کا جائزہ لیا جائے اور قانون کی خلاف ورزی پر ذمہ داران کا تعین کیا جائے، کیونکہ کراچی کے شہری کچرے میں جینے کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔ صفائی ان کا قانونی، آئینی اور انسانی حق ہے، اور اس حق کی مسلسل پامالی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے لیے ایک کھلی اور ناقابلِ تردید چارج شیٹ ہے

اپنا تبصرہ لکھیں