پاکستانی المیہ اور طاقت کی گیدڑسینگی
تحریر : عقیل اختر
یہ کیسا المیہ ہے کہ ایک قوم آئینے کے سامنے کھڑی ہے مگر اسے اپنا اصل چہرہ دکھانے والا کوئی نہیں، یا شاید دکھانے والے بہت ہیں مگر دیکھنے کی ہمت ختم ہو چکی ہے۔ پاکستان آج جس حال کو پہنچ چکا ہے، وہ کسی ایک غلط فیصلے، کسی ایک حکومت یا کسی ایک بحران کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل سیاسی بددیانتی، ادارہ جاتی کمزوری اور طاقت کے بے لگام استعمال کا منطقی انجام ہے۔ یہ زوال اچانک نہیں آیا، اسے برسوں کی خاموش رضامندی، مفاداتی سیاست اور اجتماعی غفلت نے جنم دیا ہے۔ہم ایک ایسے سماج میں زندہ ہیں جہاں عوام کی غربت کو قسمت کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے اور حکمرانوں کی دولت کو قابلیت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ عوام غریب کیوں ہو رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ حکمران امیر کیسے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ فرق کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی کامیابی ہے جو اوپر والوں کو تحفظ اور نیچے والوں کو قربانی کا درس دیتا ہے۔ مہنگائی، ٹیکس، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی عوام کے حصے میں آتی ہے، جبکہ مراعات، استثنیٰ اور طاقت مخصوص طبقے کی جاگیر بن چکی ہیں۔پچاس برس کی پارلیمانی تاریخ گواہ ہے کہ قانون سازی ضرور ہوئی، مگر عوامی فلاح کبھی اس کا محور نہیں بنی۔ تعلیم آج بھی ریاستی ذمہ داری کے بجائے ایک ذاتی جدوجہد ہے، صحت حق نہیں بلکہ احسان سمجھی جاتی ہے،
اور روزگار قابلیت سے زیادہ سفارش کا محتاج ہے۔ اس کے برعکس ٹیکس، قیمتوں میں اضافے اور قرضوں کے معاہدے بڑی سرعت سے طے پاتے رہے۔ عوام سے نہ کبھی پوچھا گیا کہ قرض کیوں لیا جا رہا ہے، نہ یہ بتایا گیا کہ وہ کہاں خرچ ہوا۔ مگر جب قرض اتارنے کا وقت آیا تو بجلی، گیس، آٹا اور دوائی سب مہنگی کر دی گئیں۔اس پورے منظرنامے کی بنیاد ایک ہی حقیقت پر کھڑی ہے: اس ملک میں اختیار ہے مگر احتساب نہیں۔ طاقت جب سوال سے آزاد ہو جائے تو وہ خدمت نہیں، استحصال کو جنم دیتی ہے۔ اقتدار میں آنے والا خود کو عوام کا جواب دہ نہیں سمجھتا بلکہ خود کو عوام سے بالا تصور کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو کرپشن کو جرم نہیں بلکہ مہارت بنا دیتی ہے۔ فائلوں کا دب جانا، فیصلوں کا بکنا اور قومی وسائل کا ذاتی ملکیت سمجھا جانا اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔ اداروں کی کمزوری اور سلیکٹو انصاف ہے۔ قانون کتابوں میں سب کے لیے برابر ہے، مگر عملی زندگی میں کچھ لوگ قانون سے اوپر اور کچھ اس کے نیچے رکھے گئے ہیں۔ یہی دہرا معیار ریاست کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ بڑے مالی اسکینڈلز، زمینوں پر قبضے اور قومی دولت کی بندر بانٹ کے باوجود نہ مثال قائم ہوتی ہے نہ خوف پیدا ہوتا ہے۔ انصاف جب شخصیت دیکھ کر بدلے تو عام آدمی کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے
جب ریاست کمزور پڑنے لگتی ہے۔عدالتیں، جو آئین کی محافظ ہونی چاہئیں تھیں، عوام کی نظر میں اب آخری امید کے بجائے آخری مجبوری بنتی جا رہی ہیں۔ انصاف میں تاخیر ایک معمول بن چکی ہے، اور یہ تاخیر اب انصاف سے انکار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ غریب کا مقدمہ برسوں لٹکا رہتا ہے، جبکہ طاقتور کے لیے راستے ہموار ہو جاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک عدالتوں کی وہ خاموشی ہے جو آئین کی پامالی اور عوامی مینڈیٹ کی توہین پر اختیار کی جاتی ہے۔ خاموشی بھی ایک مؤقف ہوتی ہے، اور بدقسمتی سے یہ مؤقف اکثر طاقتور کے حق میں جاتا ہے۔پارلیمان کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ، جو عوام کی آواز ہونی چاہئیں تھیں، آج سودے بازی کے مراکز بن چکی ہیں۔ یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نشستیں کروڑوں روپے میں خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔
الیکشن نظریے کا نہیں، سرمایہ کاری کا عمل بن چکا ہے، جہاں خرچ ہونے والا پیسہ بعد میں کئی گنا منافع کے ساتھ عوام کی جیب سے وصول کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایوانوں تک عام آدمی نہیں پہنچ پاتا، وہاں وہی آتا ہے جس کے پیچھے سرمایہ یا طاقت کی سرپرستی ہوتی ہے۔سینیٹ، جسے سیاسی بلوغت اور استحکام کی علامت ہونا چاہیے تھا، وہاں بھی ووٹوں کی بولی لگتی ہے اور وفاداریاں خریدی جاتی ہیں۔ تحقیقات ہوتی ہیں، بیانات آتے ہیں، مگر نتیجہ ہمیشہ صفر رہتا ہے۔ نہ کوئی قانون بدلتا ہے، نہ کوئی مثال قائم ہوتی ہے، کیونکہ احتساب کا دائرہ پہلے ہی محدود کر دیا گیا ہے۔ طاقتور صرف حکومت نہیں بناتا، وہ نمائندے بھی خود چنتا ہے، اور پھر انہی سے اپنے مفادات کے مطابق قانون سازی کرواتا ہے۔
یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہماری اسمبلیاں آزاد ادارے نہیں بلکہ یرغمال بن چکی ہیں۔ جب نمائندہ عوام کے بجائے اپنے سرمایہ کار یا سرپرست کا وفادار ہو، تو وہ عوام کے حق میں کیسے کھڑا ہوگا؟ وہ سوال کیسے اٹھائے گا؟ نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ایوانوں میں شور بہت ہوتا ہے مگر سمت کہیں نظر نہیں آتی۔یہ پورا نظام ایک دوسرے کو سہارا دے رہا ہے۔ عدلیہ کی کمزوری پارلیمان کو بے لگام بناتی ہے، اور پارلیمان کی اخلاقی شکست عدلیہ کو خاموش رہنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ اس بیچ میں عوام صرف تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں—تھکے ہوئے، مایوس اور بے اختیار۔ انہیں کبھی قربانی کا درس دیا جاتا ہے اور کبھی صبر کی تلقین، مگر فیصلہ سازی کے دروازے ان پر ہمیشہ بند رہتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں عام آدمی حیرت سے پوچھتا ہے
کہ آخر وہ کون سی گیدڑ سنگھی ہے جس کے باعث طاقتور کی دولت بڑھتی جاتی ہے اور ملک کنگال ہوتا جاتا ہے۔ اس سوال کا جواب کسی جادو میں نہیں، بلکہ اسی نظام میں چھپا ہے جو عوام کو منتشر، کمزور اور خاموش رکھتا ہے۔ جب عوام سوال کرنا چھوڑ دیں تو اقتدار خود بخود چند ہاتھوں میں سمٹ جاتا ہے۔یہ کالم کسی بغاوت کی دعوت نہیں، بلکہ شعور کی دستک ہے۔ آئینہ پوری طرح سامنے ہے۔ اس میں حکمرانوں کے چہرے بھی نظر آ رہے ہیں، عدالتوں کی خاموشی بھی، اور اسمبلیوں کی فروخت بھی۔ سوال یہ نہیں کہ آئینہ سچ دکھا رہا ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم اس سچ کو کب تک نظرانداز کرتے رہیں گے۔ کیونکہ اگر قوم نے اب بھی سوال نہ کیے، تو کنگالی صرف معاشی نہیں رہے گی، فکری اور اخلاقی بھی بن جائیگی۔