ملازمین پر جھوٹی ایف آئی آر کی شدیدمذمت

کراچی واٹر کارپوریشن ملازمین پر انتظامیہ کی جانب سےایف آئی آر کٹوا ئی گئی متحدہ ورکرز فرنٹ کی مذمت
ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی، آئی جی سندھ، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے پُرزور مطالبہ
انتظامیہ کی طرف سے ملازمین کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر فوری واپس لی جائے

کراچی.………متحدہ ورکرز فرنٹ سی بی اے کی جانب سے ڈسٹرکٹ ویسٹ میں کی گئی ادارے کے شعبہ جات کو آؤٹ سورس کرنے کے خلاف کام چھوڑ، قلم چھوڑ اور آفس چھوڑ ہڑتال نے ملازمین میں شعور اور اتحاد پیدا کیا، جس کا مقصد ادارے کو آؤٹ سورسنگ سے بچانا اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ تھا۔انتظامیہ ہڑتال کی کامیابی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے، اور اس نے دباؤ ڈالنے کے لیے بے بنیاد اور جھوٹی ایف آئی آرز درج کروا دیں۔ اس کے بعد رات گئے پولیس کی جانب سے سی بی اے ذمہ داران اور کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، جو کہ شدید قابل مذمت عمل ہے۔متحدہ ورکرز فرنٹ سی بی اے اس غیر قانونی و غیر اخلاقی عمل کی شدید مذمت کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ ہم کسی بھی ظلم یا انتقامی کارروائی سے نہ جھکیں گے نہ ڈریں گے۔

اس صورتحال پر واٹر کارپوریشن کی متحدہ ورکرز فرنٹ سی بی اے نے ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی، آئی جی سندھ، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے ملازمین کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر فوری واپس لی جائے۔ اور ایم ڈی واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی کو آئندہ کے لئے پابند کیا جائے کہ وہ ملازمین کے خلاف اس قسم کے ہتھکنڈوں سے باز رہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں