ریاست صرف ایک ہے جو پاکستان ہے

جو لوگ وطن پرست ہوتے ہیں صوبے بنیں یا انتظامی یونٹس ملک کو مستحکم کرتے ہیں۔ کیونکہ ریاست صرف ایک ہے جو پاکستان ہے

پچیس کروڑ عوام کسی کی دھمکی اور ملک دشن سوچ کو قبول نہیں کریں گے۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو وطن پرستی کی راہ میں رکاؤٹ بنے اسے سیاست اور ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں

بنیان المرصوص کے بعد بھارت سے پینگیں بڑھانے والے ملک دوست نہیں ہوسکتے۔ پختون محب وطن ہیں جو ملک بھر میں موجود ہیں انہیں نشانہ بنانا اور اشتعال دلانا ملک دشمنی سے کم نہیں جسپر ریاست کو ایکشن لینا چاہئے۔ مرکزی کمیٹی میری پہچان پاکستان

کراچی ……….. میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کی مرکزی کمیٹی نے کہا ہے کہ ملک میں استحکام کے لئے نئے یونٹس کاقیام اور اس حوالے سے جاری بحث پر مختلف دانشوروں اور پاکستان کی مختلف این جی اوز سیاست دانوں کی رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ وطن پرست ہوتے ہیں صوبے بنیں یا انتظامی یونٹس ملک کو مستحکم کرتے ہیں۔ کیونکہ ریاست صرف ایک ہے جو پاکستان ہے۔ اس لئے ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی مسائل کے بہتر حل کے لئے انتظامی یونٹس ضروری ہوچکے ہیں جو گڈ گورننس سے ملک کو ترقی اور بہتری اورنئے نئے وسائل پیدا کرنے کے علاوہ مقامی افراد کے احساس محرومی کو ختم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ دریں اثناء مرکزی کمیٹی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو نوشتہ دیوار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم دنیا بھر کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔

دو افغانیوں کی امریکہ میں سرگرمیوں اور دہشت گرد کی کاروائیوں نے اصل چہرہ بے نقاب کردیا۔ دہشت گردوں کا کوئی مزہب نہیں ہوتا۔اسی طرح کے پی حکومت کو نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور اسمگلنگ سمیت تمام غیر قانونی کاموں کے خلاف ایکشن لینے کامطالبہ کیا ہے جبکہ ایک جماعت کی سربراہ کے بہن کے بھارتی چینل کو دیئے گئے انٹرویو کو پختون عوام کو مشتعل کرنے کے ساتھ ساتھ لسانیت کا زہر گھولنے اور ملک کی جگہ سیاست کو اپنانے اور دھمکی آمیز بیانیہ کی بھی شدید مذمت کی ہے۔ اسی طرح سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیر اعلی کے پی کو ملک دشمن بیانیہ کی مانند بیانیہ دینے کو بھارت اورافغانستان کو توانائی فراہم کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچیس کروڑ عوام کسی کی دھمکی اور ملک دشن سوچ کو قبول نہیں کریں گے۔

ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو وطن پرستی کی راہ میں رکاؤٹ بنے اسے سیاست اور ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ اس لئے افغانستان رجیم جو ملک میں پراکسی وار بھارت کے ساتھ ملکر کر رہی ہے۔ بنیان المرصوص کے بعد بھارت سے پینگیں بڑھانے والے ملک دوست نہیں ہوسکتے۔ پختون محب وطن ہیں جو ملک بھر میں موجود ہیں انہیں نشانہ بنانا اور اشتعال دلانا ملک دشمنی سے کم نہیں جسپر ریاست کو ایکشن لینا چاہئے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد اور میری پہچان پاکستان پچیس کروڑ عوام کا نعرہ ہے جو اپنی افواج کے شانہ بشانہ ہیں۔ اس لئے عوام کے غیض و غضب کو دعوت نہ دی جائے۔ وطن پرستی پر کسی کو ترجیح نہیں دی جا سکتی

اپنا تبصرہ لکھیں