سیاسی نظام میں ایک سنجیدہ مکالمے کی ضرورت
تحریر عقیل اختر
پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ یہ دور سامراجی جنگوں کا نہیں، بیرونی سازشوں کا نہیں، بلکہ داخلی بے یقینی، سیاسی بداعتمادی، معاشی زبوں حالی، اور ادارہ جاتی تناؤ کا دور ہے۔ قیامِ پاکستان کو 77 برس گزر چکے ہیں، مگر آج بھی یہ سوال پوری شدت سے موجود ہے کہ اس ملک کو کس طرزِ حکمرانی پر چلایا جائے۔ کیا پاکستان کو طاقت کے مرکزی ماڈل کی طرف جانا ہے یا جمہوری اداروں کو مضبوط کر کے فیصلہ سازی کا حق عوام کو سوپنا ہے یہ فیصلہ محض کتابی یا نظریاتی بحث نہیں بلکہ پاکستان کے بقا کا سوال ہے۔ موجودہ صورت حال میں یہ کہنا بے جا نہیں کہ ریاستی اور سیاسی رویوں نے اس ملک کے مستقبل کو ایک غیر یقینی موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، اور اس غیر یقینی کے سب سے بڑے متاثرین ہمیشہ کی طرح وہی عوام ہیں جنہوں نے اس ملک کے قیام، اس کے دفاع اور ترقی کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔پاکستان کی سیاست اور ریاست کے باہمی تعلقات کا مسئلہ آج کا نہیں ہے۔ یہ مسئلہ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی ابھرنے لگا تھا جب ادارے اپنی حدود متعین کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے دائرے میں مداخلت کرنے لگے۔ بدقسمتی سے سیاسی قیادت اپنے اندر موجود کمزوریوں، نااہلی، بدعنوانی اور اقرباپروری کو ختم نہ کر سکی۔ سیاسی جماعتیں صحیح معنوں میں عوامی ادارے بننے کے بجائے شخصیات، خاندانوں اور مخصوص طبقات کے گرد گھومتی رہیں۔ سیاسی قیادت میں جمہوری تربیت کا فقدان رہا؛ پارلیمان کو کمزور رکھا گیا؛
سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوری روایتیں پنپ نہ سکیں۔ اس کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر کرپشن، مالی بے ضابطگیاں، حکومتی مداخلتیں، غیر شفاف پالیسی سازی اور وقتی سیاسی مفادات نے ریاست کو کمزور کیا اور عوام میں ناامیدی پیدا کی۔جب سیاسی ڈھانچہ کمزور ہوتا ہے تو باقی ریاستی ڈھانچے خودبخود طاقت پکڑ لیتے ہیں۔ یہی پاکستان میں ہوا۔ سیاسی اداروں کی ناکامی، حکمرانی کی کمزوری اور بدعنوانی نے اس خلا کو اتنا وسیع کر دیا کہ انتظامی اور عسکری اداروں کو آگے بڑھ کر فیصلہ سازی کی جگہ سنبھالنی پڑی، اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ جگہ مستقل ہوتی چلی گئی۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں ریاستی توازن بگڑنے لگا۔ طاقت کا یہ غیر متوازن بہاؤ نہ صرف سیاسی جماعتوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا بلکہ خود ریاست کے اداروں کے درمیان عدم اعتماد کی فضا گہری ہوتی گئی۔ عوام نے دفاعِ وطن کے لیے ٹیکس دیا، قربانیاں دیں، مہنگائی برداشت کی، مگر طاقت کا یہ نظام کچھ اس انداز میں مضبوط ہوا کہ وہ طاقت جو دشمن کے خلاف استعمال ہونا تھی، وہ کبھی کبھی عوام کے سیاسی حقوق اور آزادیوں کو محدود کرنے میں بھی استعمال ہو گئی۔یہ حقیقت بیان کرنا ضروری ہے کہ پاکستانی عوام نے فوج کو کبھی دشمن نہیں سمجھا؛ انہوں نے ہمیشہ اس ادارے کو عزت دی، اسے اپنی سلامتی کا محافظ مانا اور اپنی کمائی کا بڑا حصہ اس کے لیے مختص کیا۔ دفاعی بجٹ ہو، عسکری ترقیاتی منصوبے ہوں، یا اندرونی سلامتی کے نام پر اقدامات—ہر مرحلے پر عوام نے بوجھ برداشت کیا۔ لیکن جب اس طاقت کا استعمال سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگا۔، منتخب حکومتوں کو کمزور کرنے، میڈیا کی آزادیوں کو محدود کرنے یا سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنے میں ہو لگا تو عوام کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری تھا۔ عوام نے جو طاقت دشمن کے سامنے مضبوط ہونے کے لیے دی، وہ طاقت سیاسی اختلاف رکھنے والے شہریوں پر یا سیاسی کارکنوں پر استعمال ہونے لگی تو وہ احساس و اعتماد مجروح ہوا جو کسی بھی ریاست کے لیے بنیادی ستون ہوتا ہے۔یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ فوجی ادارے اپنا کردار نیک نیتی سے ادا کرتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں ریاست کی سلامتی سب سے مقدم ہوتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر سیاسی نظام کمزور ہوگا تو ریاست خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ لیکن یہی وہ نقطہ ہے جہاں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ریاست کی سلامتی کے لیے سب سے اہم چیز ایک مضبوط جمہوری، شفاف، جوابدہ اور عوام کے سامنے جواب دہ سیاسی نظام ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کا کوئی ملک اس وقت تک مضبوط نہیں بنا جب تک اس کا سیاسی نظام مستحکم نہ ہو،
اور سیاسی نظام اس وقت تک مستحکم نہیں ہوتا جب تک اس کے فیصلے عوام کے منتخب اداروں کے ذریعے نہ ہوں۔بدقسمتی سے پاکستان میں سیاسی قیادت نے بھی اپنی ذمہ داری پوری نہ کی۔ انتخابات کے موسم میں عوامی خدمت کے وعدے کیے جاتے ہیں مگر اقتدار میں آنے کے بعد یہی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، اقتدار کے کھیل میں مصروف رہنے، ترقیاتی منصوبوں کو ذاتی مفادات کے تابع رکھنے، یا حکومتی اداروں کو ذاتی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرنے لگتی ہیں۔ کرپشن، بدانتظامی، نااہلی اور اقرباپروری نے ریاستی اداروں میں اعتماد ختم کیا، عوام کو مایوس کیا اور ملک کی معیشت کو بدحالی کی طرف دھکیل دیا۔ جب سیاست دان عوامی اعتماد کھو دیتے ہیں تو غیر سیاسی اداروں کی مداخلت بڑھتی ہے، اور یوں ایک بحران پیدا ہوتا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔آج ملک کی معاشی حالت یہ ہے کہ کروڑوں لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، مہنگائی نے گھر تباہ کر دیے ہیں، روزگار کے مواقع کم ہو چکے ہیں، تعلیم اور صحت کی سہولیات عام شہری کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ عوام ٹیکس دیتے ہیں، مہنگائی جھیلتے ہیں، قربانی دیتے ہیں، مگر ان کے بدلے میں انہیں سیاسی استحکام، معاشی بہتری یا ادارہ جاتی ہم آہنگی نہیں ملتی۔ اس صورتحال نے عوام کے ذہن میں سوالات کو جنم دیا ہے کہ آخر وہ کس کے لیے قربانی دے رہے ہیں ریاست کے لیے؟ سیاسی جماعتوں کے لیے؟ یا کسی ایسے نظام کے لیے جو ان کی زندگی میں کوئی بہتری لانے میں ناکام ہے پاکستان میں دفاعی بجٹ ہمیشہ بڑا رہا ہے، اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ خطے کی صورتحال اس کی ضرورت پیدا کرتی ہے۔ لیکن عوام اس کے بدلے یہ توقع رکھتے ہیں کہ جو طاقت وہ اپنی قربانیوں سے پیدا کر رہے ہیں، وہ طاقت سیاسی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کے بجائے بیرونی خطرات کے خلاف استعمال ہو۔ جب کبھی یہ احساس پیدا ہو کہ طاقت کا استعمال اندرونی سیاست میں ہو رہا ہے، تو عوام میں پائے جانے والا وہ احترام اور اعتماد کمزور پڑتا ہے جو کسی بھی ادارے کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے۔یہ کہنا بھی درست نہیں کہ تمام خرابی فوج یا سیاست دانوں میں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ مسئلہ ایک مشترکہ قومی المیہ ہے—ایک ایسا المیہ جس میں ہر وہ طبقہ شامل ہے جس نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی۔ سیاسی قیادت نے اپنے کردار کو صاف نہیں کیا، ادارہ جاتی حدود کا ا احترام نہیں کیا،
عدلیہ نے کئی مواقع پر غیر تسلی بخش کردار ادا کیا، میڈیا نے بھی بعض اوقات سنسنی اور ذاتی مفاد کو ترجیح دی، اور عوام نے بھی انتخابات میں وہ فیصلہ کن کردار ادا نہیں کیا جو ایک حقیقی جمہوری معاشرے میں ضروری سمجھا جاتا ہے۔پاکستان کو اس وقت ایک ایسے اجتماعی فیصلے کی ضرورت ہے جو محض کسی ایک ادارے یا ایک جماعت کا فیصلہ نہ ہو۔ یہ فیصلہ سیاست دانوں، عدلیہ، میڈیا، عسکری اداروں اور سب سے بڑھ کر عوام کو مل کر کرنا ہوگا کہ اس ملک کی سمت کیا ہونی چاہیے۔ کیا پاکستان کو چائنا ماڈل جیسی سخت ریاستی گرفت کی ضرورت ہے؟ یا پاکستان کو حقیقی جمہوریت کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو کسی ایک ماڈل کی نہیں بلکہ اپنے حالات کے مطابق ایک متوازن، جواب دہ، شفاف اور عوام دوست ماڈل کی ضرورت ہے۔یہ ماڈل ایسا ہونا چاہیے جس میں طاقت کسی ایک جگہ جمع نہ ہو بلکہ تمام اداروں کے درمیان ایک ایسا صحت مند اور آئینی توازن ہو جو ریاست کی بقا اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔ طاقت عوام سے نکل کر عوام کی جانب لوٹے، فیصلے پارلیمان میں ہوں، سیاسی جماعتیں اپنے اندرونی ڈھانچوں کو مضبوط کریں، احتساب بلا امتیاز ہو، فوج دفاع اور سلامتی کی ذمہ داری ادا کرے مگر سیاسی عمل سے فاصلہ قائم رکھے، عدلیہ شفافیت اور آئین کی پاسداری کی علامت بنے، اور میڈیا حقائق پر مبنی صحافت کرے۔اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ ملک کی ترقی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ادارے اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں اور عوامی مفاد کو مقدم رکھیں، تو پاکستان میں استحکام آےٗ گا۔لیکن اگر اداروں کی کشمکش جاری رہی، سیاسی جماعتیں اپنی صفوں میں اصلاح نہ لائی، اور طاقت کا بہاؤ اسی طرح غیر متوازن رہا تو سب سے زیادہ نقصان اسی ملک اور اسی قوم کو ہوگا جس نے اس ریاست کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔پاکستان کو آج ایک سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے—ایسا مکالمہ جس میں کسی فریق کو دشمن قرار نہ دیا جائے،
بلکہ سب کو یہ احساس ہو کہ ہم ایک ریاست کے ستون ہیں اور ستونوں کی لڑائی میں ہمیشہ چھت گر جایا کرتی ہے۔ قومی قیادت کو یہ حقیقت قبول کرنی ہوگی کہ سیاسی اور عسکری رویوں کی غلطیوں کا بوجھ اب عوام مزید نہیں اٹھا سکتے۔ وقت آ گیا ہے کہ طاقت کا مرکز عوام کی خواہشات کو بنایا جائے۔ ریاست کی اصل طاقت عوام ہیں، اور جب تک عوام کو احترام، معاشی استحکام اور سیاسی آزادی نہیں ملتی، ریاست مستحکم نہیں ہو سکتی۔پاکستان ایک عظیم ملک ہے۔ اس کے پاس بے شمار وسائل ہیں، زرخیز زمین، محنتی عوام، دلیر سپاہ، اور روشن مستقبل۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ سب ایک دوسرے کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنے کا موقع دیں۔ سیاسی قیادت اپنی اصلاح کرے، عسکری قیادت اپنا دائرہ واضح رکھے، اور عوام اپنی رائے کے ذریعے ملک کو صحیح سمت میں لے جائیں اگر یہ قومی فیصلہ آج نہ ہوا، تو آنے والے برس مزید سخت ہوں گے۔ لیکن اگر یہ فیصلہ آج ہو گیا—تو پاکستان صرف بحران سے نہیں نکلے گا بلکہ ایک ایسی ریاست بن سکتا ہے جس پر اس کے بانیوں کو فخر محسوس ہو