بلدیاتی نظام خطرہ ،نہیں :سیدمحبوب چشتی

بلدیاتی نظام کو کوئی خطرہ نہیں تقریباسیاسی جماعتوں کی پسندیدہ شخصیت سید ناصر حسین شاہ وزیربلدیات بن گئے
ایم کیوایم پاکستان بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کیوجہ سے پیپلزپارٹی سندھ حکومت اوربلدیاتی نظام میں مضبوط ہوگئی

تحریر :سیدمحبوب احمد چشتی

سندھ کابینہ میں ہونے والی تبدیلیوں کو زمین آسمان قلابے ملاتے ہوئے اہم ترین تصور کیا جارہا ہے تبادلے ،تعیاناتیاں سرکاری نوکری کاحصہ ہوتی ہیں یہ جب روٹین کا حصہ ہیں تو مجھے تو اس پرصرف حیرت کااظہار ہی کرناچاہیے، سابق وزیربلدیات سعید غنی اور انکے بھائی کا یکدم خبروں میں آنے کے بعد اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں تھا کہ سندھ کابینہ میں کم از کم وزیربلدیات کی تبدیلی تو یقینی ہے طویل عرصے سےتقریبا سیاسی جماعتوں کی پسندیدہ شخصیت سید ناصر حسین شاہ کی تعیناتی کی اطلاعات گردش کررہی تھیں اب آئے تب آئے کے مصداق یہ تعیناتی بھی عمل میں آگئی اس تبدیلی سے امیدکی جارہی کہ سیدناصرحسین شاہ بلدیاتی اداروں میں نچلی سطع پرملازمین کے مسائل کو بغیرکسی تعصبی طرزفکر اور بلدیاتی اداروں کی گرتی ہوئی ساکھ کو بہتربنانے میں اپناانقلابی کردار ادا کرینگے

ماضی کے کچھ اہم فیصلوں کے تناظر میں اگر بلدیاتی نظام کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ بلدیاتی نظام کو ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کا نام تو مل گیا لیکن یہ پرویزمشرف نظام سے بہت الگ اور خوفناک تھا جس کو آمر کا نظام کہہ کررد کردیا گیا تھا نچلی سطع پراختیارات کی منتقلی کے اس نظام کو اسوقت شدید دحچکا پہونچا جب بلدیاتی نظام کے حوالے سے سب سے بہترجماعت ایم کیوایم پاکستان نے ڈانستہ یا غیردانستہ )اللہ ہی جانے کون بشرہے)کومدنظررکھتے ہوئے پیپلزپارٹی کو وہ گوہرناب تحفہ دے دیا جس نے پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو میدان میں کھل کرکھلینے کاموقعہ فراہم کردیا

بلدیاتی انتخابات مکمل بائیکاٹ کی بدولت سندھ حکومت کی پانچوں انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں نظرآئے کیونکہ یہ بات تو اٹل تھی کہ جماعت اسلامی کا مئیرکسی صورت نہیں آسکتا تھا یاآنے نہیں دیا جائےگا بلدیاتی انتخابات میں جیسے تیسے جیت کر پیپلزپارٹی اپنا میئراور بلدیاتی اداروں میں اپنا تسلط قائم میں کرنے کامیاب رہی ایم کیوایم پاکستان اور جماعت اسلامی دونوں کو بلدیاتی نظام کا وسیع تجربہ حاصل تھا لیکن ایم کیوایم پاکستان کا بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کیوجہ سے پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت بلدیاتی نظام میں مضبوط ہوگئی

کچھ جائزہ نئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے لیاجائے تو وزیربلدیات سیدناصر حسین شاہ کی تعیناتی کواہم تصور کیا جارہا ہے نئے وزیربلدیات کے سامنے آنے کے بعد محکمہ بلدیات نے ادارہ ترقیات کراچی میں نیا پینڈوراباکس کھول دیا 25اکتوبر 2025 کو ایک نوٹیفیکشن جاری کردیا جس میں ادارہ ترقیات کراچی میں مشکوک بھرتیوں کے حوالے سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی خصوصی ہدایت پر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے

جو بھرتیوں کی تحقیقات کرے گی چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی میں اسپشل سیکرٹری محکمہ ہاؤسنگ اینڈٹاؤن پلاننگ .ایڈیشنل سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈٹاؤن پلاننگ ،میونسپل کمشنر بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ڈائریکٹرجنرل ادارہ ترقیات کراچی شامل ہیں ایم کیوایم پاکستان کی حمایت یافتہ کے ڈی اے ایمپلائز یونین کو سی بی اے بنتے ہی ایک نئی آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ کس طرح ادارہ ترقیات کراچی میں‌سندھ حکومت کے اس وار کو کس طرح روک پائی گی یہ کے ڈی اے ایمپلائزیونین سی بی اے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کااصل امتحان ہوگا اب کچھ تجزیہ راقم الحروف بھی کرلیں محکمہ بلدیات سندھ حکومت کے اس نوٹیفیکشن کے سامنے آنے کے بعد بے شمار قیاس آرائیاں اپنے عروج پر پہونچ گئی ایسا لگا خواہشات کو عملی جامہ پہناکربس پورے کراچی میں بس یہ ایک ہی مسلئہ رہ گیا کہ اور اب اس بلدیاتی نظام کولپٹنے کی تیاری اپنے آخری مراحل میں ہے

بالفرض یہ مان بھی لیا جائے تو اس کے مستقبل میں بلدیاتی اداروں پرکیا اثرات مرتب ہونگے اس جانب توجہ کم ہی نظرآتی ہے موجودہ بلدیاتی نظام کو اگرفارغ کرنے کی کوشش کی جاتی تو یہ آئندہ بلدیاتی نظام کے لیئےناپسندیدہ روایت کی راہیں ہموار ہوجائنگی کہ لپٹ دو لپٹ دو بلدیاتی نظام کو لپٹ دو کی آوازیں آرہی ہونگی مووجودہ بلدیاتی نظام سے کوئی بھی خوش نہیں ہے لیکن یہ بھی مدنظررکھاجائےکہ بلدیاتی سیٹ اپ ختم ہونے میں کم وقت رہ گیا ہے

اس پراس نظام کو لپٹنے کی قیاس آرائیوں کا سامنا آنا اس بات کوتقویت دے رہاہے کہ اس نظام کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے خواہش ضرور کی جائے اور عملی جدوجہدبھی ضرور کی جائےلیکن اس وقت کیوں یہ بلدیاتی نظام کو لپٹنے کی باتیں سامنے آرہی ہیں جب اس کے ختم ہونے میں کم عرصہ رہ گیا ہےپھریہ سوال بھی پیداہوتا ہے کہ نظام لپٹنے کی اگرروایت پڑگئی تو اسکا نقصان ان تمام سیاسی جماعتوں کوہوگا جو بلدیاتی نظام سے کسی نہ کسی طرح حصہ رہی ہیں اورمستقبل میں بھی رہینگی مستقبل کے بلدیاتی منظرنامے پرنظرڈالی جائے تو موجودہ بلدیاتی نظام کو فی الحال کوئی خطرہ نظرنہیں آرہاہے اگریہ بات ہوتی تو وزیربلدیات سیدناصرحسین شاہ بلدیات کی وزرات کے لیئے کھبی راضی نہیں ہوتے

ادارہ ترقیات کراچی میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کے دور میں ہونے والی تقرریوں کی تحقیقات کے نام پر حکومتی جانبدار کمیٹی کے خلاف ایم کیوایم پاکستان نے شدیدتحفظات کااظہارکرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہےجس طرح ایم کیوایم پاکستان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اس سے یہ امیدپیدا ہوچلی ہے کہ یہ معاملہ انتہائی سطع تک نہیں جائے گا اور معاملہ باہمی (سیاسی) افہام وتفہیم سے حل کرلیاجائے گا

اپنا تبصرہ لکھیں