کراچی کچرے کاشہر،سیف الدین ایڈوکیٹ

کراچی کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے، وزیر بلدیات کے تحت ہر محکمہ تباہی کا شکار ہے،سیف الدین
ٹھیکیدار کمپنیوں کی کارکردگی بدترین ہے، 9ٹاؤن چیئر مینوں کے ہمراہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ایم ڈی سے ملاقات
ٹھیکیدار کمپنیوں کا فوری آڈٹ، کرپٹ افسران کو برطرف اور صفائی کے اختیارات بلدیاتی نمائندوں کو واپس دیے جائیں،اپوزیشن لیڈ ر کے ایم سی
بورڈ بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کا خواہاں ہے۔ ایم ڈی بورڈ طارق علی نظامانی کی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی

کراچی ( )اپوزیشن لیڈر کے ایم سی و نائب امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ نے جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز کے چیئرمینوں کے ہمراہ ایم ڈی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ(SSWMB) طارق علی نظامانی سے ملاقات کی، ملاقات میں ادارے کی ناقص کارکردگی، ٹاؤنز اور یونین کونسلز کے ساتھ عدم تعاون اور صفائی ستھرائی کے غیر مؤثر نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا

اور کہا کہ کراچی کو کچرے کا شہر بنا دیا گیا ہے، وزیر بلدیات کے تحت ہر محکمہ تباہی کا شکار ہے،خمیازہ کراچی کی عوام بھگت رہے ہیں، سیف الدین ایڈوکیٹ نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے زیر انتظام ٹھیکیدار کمپنیوں کی کارکردگی کو بھی انتہائی بد ترین قرار دیا ان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بورڈکاغذوں میں بہت اچھے منصوبے بنارہا ہے لیکن زمینی صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے،ضلع،ٹاؤن اور یوسیز کی سطح پر بھی بہت سارے عملے کی کارکردگی صرف سیاسی وفاداریوں تک محدود ہ

۔اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا کہ ٹھیکیدار کمپنیوں کا فوری آڈٹ کرایا جائے، کرپٹ افسران کو برطرف اور صفائی کے اختیارات بلدیاتی نمائندوں کو واپس دیے جائیں تاکہ عوامی مسائل کو ان کے منتخب نمائندے خود حل کر سکیں۔سیف الدین ایڈوکیٹ اور دیگر چیئرمینز نے اس امر پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو نظر انداز کر کے یکطرفہ فیصلے کیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے بورڈ کی کاکردگی مایوس کن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ منتخب نمائندوں کے ساتھ مؤثر رابطہ اور مشاورت ناگزیر ہے۔یونین کونسل اور ٹاؤن کی سطح پر SSWMB کے عملہ کو جواب دہی کا پابند کیا جائے،

ٹاؤن چیئر مینوں نے آگاہ کیا کہ گھروں سے کچرے کی کلیکشن پرائیوٹ افراد کے ہاتھوں میں ہے،ٹھیکیدار کمپنیاں مقررہ کردہ معیار سے انتہائی کم اور غیر معیاری لیبر لاتی ہیں۔کچرا گاڑیاں بھی انتہائی کم ہیں، ٹاؤن اور یوسیز اگر اپنے وسائل استعمال نہ کریں تو شہر میں غلاظت کے انبار لگ جائیں حکومت کی جانب سے جاری کردہ بے تحاشہ فنڈز کمپنیوں کی جیب میں جارہے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ بورڈ کے افسران دفتروں سے نکل کر اصل صورت حال کا جائزہ لیں اور عملے کی ناقص کارکردگی کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں۔ای

م ڈی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ طارق علی نظامانی نے مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے حل کی یقین دہانی کروائی، بورڈ کی جانب سے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات اور آئندہ کے پروگرام پر تفصیل سے آگاہ کیا اور کہا کہ بورڈ بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کا خواہاں ہے

۔طارق علی نظامانی نے یقین دلایا کہ انہیں جب اور جہاں بلایا جائے گا وہ آئیں گے اور آج کی میٹنگ میں اُٹھائے گئے نکات کی روشنی میں پروگرام ترتیب دیا جائے گا۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے تحمل سے مسائل سننے پر طارق نظامانی کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے عوام کے مسائل کے حل کے لئے ہر ایک سے بھرپور تعاون کرنے کو تیار ہیں

اپنا تبصرہ لکھیں