کراچی میں پانی کا بحران پیپلز پارٹی کی مسلط کردہ آبی جارحیت ہے،منعم ظفر خان
پانی کی عدم فراہمی کے خلاف کل شہر کی 13اہم شاہراؤں پر بھر پور احتجاج کیا جائے گا،پریس کانفرنس سے خطاب
پیپلز پارٹی کراچی کے اداروں اور وسائل پر قابض ہے، ہر شہری ادارے سے کراچی کا نام کھرچ کھرچ کر نکال رہی ہے
چار ماہ میں ڈکیتی کے دوران 42افراد مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے، وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ، آئی جی کہاں ہیں؟
بھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی اور فتح پر افواج پاکستان و پوری قوم کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں
کراچی ………… امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی میں پانی کا بحران پیپلز پارٹی کی مسلط کردہ آبی جارحیت ہے، جماعت اسلامی پانی کی عدم فراہمی کے خلاف جمعہ 16مئی کو شہر کی 13اہم شاہراؤں اور مقامات پر بھر پور احتجاج کرے گی، حکومتی سرپرستی میں شہر مین ٹینکر مافیا کا راج ہے، پیپلز پارٹی 17سال سے سندھ میں حکومت کر رہی ہے، کراچی کے اداروں اور وسائل پر اس کا قبضہ ہے اور کراچی کے ہر ادارے سے کراچی کا نام کھرچ کھرچ کر نکال رہی ہے، کے بی سی کو ایس بی سی اے، کے ڈی اے کو ایس ڈی اے، کراچی ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں تبدیل کر دیا گیا،
اندرون سندھ سے لاکر لوگوں کو بھرتی کیا جا رہا ہے، کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے ساتھ بھی یہ ہی کیا جارہا ہے، پولیس کے محکمے میں بھی کراچی کے مقامی باشندے نہ ہونے کے برابر ہیں اس وجہ سے شہر میں امن و امان اور مسلح ڈکیتی کی وارداتوں کے حوالے سے صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے، گزشتہ ساڑھے چار ماہ میں کراچی کے 42افراد مسلح ڈاکوؤں کی فائرنگ کے نتیجے میں قتل کیے گئے، وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ، آئی جی کہاں ہیں؟ کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا؟ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے حقوق کے لیے جدو جہد اور مزاحمت جاری رکھے گی اور عوام کو ان کا حق دلوائے گی۔بھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی اور فتح پر افواج پاکستان و پوری قوم کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں، بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا اور پوری قوم نے بھر پور قومی وحدت اور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں شہر میں پانی کے بحران، شہری و بلدیاتی مسائل کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر نائب امیرجماعت اسلامی کراچی انجینئر سلیم اظہر،چیئرمین گلبرگ ٹاؤن نصرت اللہ،چیئرمین لیاقت آباد ٹاؤن فراز حسیب،سیکریٹری پبلک ایڈ کمیٹی نجیب ایوبی،ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد،ممبر سٹی کونسل تیمور احمد بھی موجود تھے۔منعم ظفر خان نے مزیدکہاکہ کراچی کی آبادی سرکاری طور پر دوکروڑ سے کچھ زیادہ ہے اور اس لحاظ سے کراچی کے شہریوں کو 1200جی ایم ڈی یومیہ پانی کی ضرور ت ہے جبکہ کراچی کی اصل آبادی تین کروڑ سے بھی زیادہ ہے اس لحاظ سے اس شہر کو 1600ایم جی ڈی یومیہ پانی کی ضرورت ہے لیکن کراچی کے عوام کو یومیہ 650ایم جی ڈی پانی دیا جارہا ہے جو پانی ویسے ہی کم ہے اور جب لائنیں پھٹی ہیں تو 400ایم جی ڈی پانی ملتا ہے۔کراچی یونیورسٹی کے پاس پانی کی 84انچ کی لائین گزشتہ 7ماہ میں 6بار ٹوٹ چکی ہے،ہر گزرتے دن کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ پانی آجائے گا لیکن اب تک پانی نہیں دیا گیا،

جماعت اسلامی کے وفد نے واٹر بورڈ کے سی او،سی اواو سے ملاقات کی اور اپنی سفارشات پیش کیں،کراچی میں پانی کے مسائل پر گفتگو کی لیکن وزیر اعلیٰ، وزیر بلدیات کہاں ہیں؟ 14دن سے شہری پانی سے محروم ہیں لیکن کسی کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔شہر میں پانی کا دھندا کرنے والوں اور ٹینکر مافیا کا راج ہے اور سال کے آخر میں بڑے فخرسے اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم نے ٹینکر کے ذریعے اتنا منافع کمایا،کے فورمنصوبہ مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا، حد تو یہ ہے کہ جن علاقوں میں پانی آتا تھا اب وہ علاقے بھی پانی سے محروم ہوگئے ہیں۔14دن سے گلشن اقبال، ناظم آباد، فیڈرل بی ایریا،پی سی ایچ ایس، گلستان جوہر، صدر سمیت کراچی کے بڑے علاقے پانی سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہر میں اسٹریٹ کرائمز ومسلح ڈکیتی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، شہری روزانہ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھارہے ہی
ں،اورنگی ٹاؤن میں 32سالہ نوجوان کو ڈکیتی کی مزاحمت پر گولی مارکر جاں بحق کردیا گیا۔اس سے ایک دن قبل شادمان میں 22سالہ نوجوان کوقتل کیا گیا،پیپلزپارٹی 17سال سے صوبے پر قابض ہے لیکن شہریوں کو حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے،مسلح ڈکیتی و چوری کی وارداتوں میں پولیس کا پورا محکمہ ملوث ہے، ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ جس ایریا میں ڈکیتی ہوتی ہو وہاں پولیس کو علم نہ ہو۔ہمارا اصولی موقف اور مطالبہ ہے کہ پولیس کے محکمے میں کراچی کے مقامی افراد خواہ وہ کوئی بھی زبان بولنے والا ہوں میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا جائے