انسانی زندگیوں کےلیئے سنگین خطرہ

غیر قانونی آن لائن ادویات کی فروخت ،اسپتالوں کا خطرناک فضلہ انسانی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ، فوری کارروائی کی جائے: کوکب اقبال
پی ٹی اے ایسی تمام ویب سائٹس، ایپس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرے جو غیر قانونی اور غیر مجاز ادویات کی فروخت میں ملوث ہیں

کراچی…….. چیئرمین کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (کیپ ) کوکب اقبال نے غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن فروخت اور اسپتالوں کے خطرناک طبی فضلے کو غیر ذمہ دارانہ انداز میں ٹھکانے لگانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں معاملات عوامی صحت اور صارفین کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن عوام کو غیر قانونی طبی سرگرمیوں اور خطرناک ادویات سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کر رہا ہے، جبکہ ویب سائٹس، سوشل میڈیا پیجز اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر جعلی، غیر معیاری، زائد المیعاد اور غیر رجسٹرڈ ادویات کھلے عام فروخت کی جا رہی ہیں۔

کوکب اقبال نے کہا کہ ایسی ادویات معصوم صارفین کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہیں۔ ان ادویات کے استعمال سے علاج ناکام ہو سکتا ہے، زہر خورانی، پیچیدگیاں اور جان لیوا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) فوری طور پر ملک بھر میں غیر قانونی آن لائن ادویات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرے اور اس مکروہ کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) فوری طور پر ایسی تمام ویب سائٹس، ایپس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرے جو غیر قانونی اور غیر مجاز ادویات کی فروخت میں ملوث ہیں۔

کو کب اقبال نے اسپتالوں کے طبی فضلے کے معاملے پر بھی شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو بتایا جائے کہ اسپتال اپنا خطرناک اور متعدی فضلہ کہاں پھینک رہے ہیں، اور اس فضلے کی محفوظ تلفی اور ری سائیکلنگ نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے۔

انہوں نے کہا کہ استعمال شدہ سرنجیں، متاثرہ طبی سامان اور زہریلا فضلہ اگر مناسب طریقے سے تلف نہ کیا جائے تو مہلک بیماریوں کے پھیلاؤ، ماحولیاتی آلودگی اور بڑے صحت بحران کا سبب بن سکتا ہے۔

کوکب اقبال نے مطالبہ کیا کہ غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کا فوری تعین کیا جائے، اسپتالوں کی سخت نگرانی کی جائے اور صحت و ماحولیات کے قوانین پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر عوام اور صارفین مسلسل خطرات سے دوچار رہیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں