شدید بجلی بحران اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ، صارفین کا مستحکم توانائی پالیسیوں کا مطالبہ
موجودہ طلب تقریباً 18 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ پیداوار اس سے کہیں کم ہے
بجلی کی طلب اور رسد میں بڑے فرق کے باعث لوڈشیڈنگ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہےچیئرمین کیپ کو کب اقبال
کراچی ……. چیئرمین کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (کیپ) کوکب اقبال نے ملک بھر میں جاری بجلی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی طلب اور رسد میں بڑے فرق کے باعث لوڈشیڈنگ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی کے حالیہ بیان، جس میں پن بجلی کی کمی، گیس بحران اور ایندھن کی قلت کا ذکر کیا گیا، پر ردعمل دیتے ہوئے کوکب اقبال نے کہا کہ ایک بار پھر ناقص منصوبہ بندی اور غیر مستقل توانائی پالیسیوں کا بوجھ صارفین پر ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ طلب تقریباً 18 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ پیداوار اس سے کہیں کم ہے، جس کے نتیجے میں شدید شارٹ فال پیدا ہو چکا ہے اور گرمی کی شدت میں عوام بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں۔
سی اے پی آفس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے صارفین شدید مشکلات میں ہیں مگر حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتی نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا کہ سولر انرجی اور نیٹ میٹرنگ سے متعلق پالیسیاں بار بار بنائی اور پھر تبدیل کر دی جاتی ہیں، جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
کوکب اقبال نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت واقعی توانائی بحران حل کرنا چاہتی ہے تو فوری طور پر بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ہدایت دے کہ گھروں، دفاتر، تجارتی مراکز اور صنعتوں میں سولر سسٹم لگانے کے لیے زیرو فیصد مارک اپ قرضے فراہم کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہنگامی بنیادوں پر حکومت سولر اور ونڈ انرجی آلات کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے اور قابل تجدید توانائی اپنانے والوں کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کرے۔ اس اقدام سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور قومی گرڈ پر دباؤ میں کمی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہر سال بحران پیدا ہونے کے باوجود بروقت اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے تاکہ عوام کو بلا تعطل توانائی فراہم کی جا سکے۔

کوکب اقبال نے کہا کہ ہمسایہ ممالک قابل تجدید توانائی کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ پاکستان غیر مستقل پالیسیوں کے باعث پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض مفاد پرست عناصر صارفین کو اپنی بجلی پیدا کرنے کی سہولت دینے کے خلاف رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اوگرا صارفین کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا تھا، مگر اب اس کے مقاصد اور کردار تبدیل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی صارفین سولر انرجی میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ حکومت کم از کم 10 سال کے لیے پالیسیوں میں استحکام کی ضمانت دے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری اور طویل المدتی اقدامات کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے